ہوانا، 27 فروری (یو این آئی)کیوبا کی سیکیورٹی فورسز نے سمندری حدود کی خلاف ورزی پر امریکہ میں رجسٹرڈ ایک کشتی پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 4 افراد ہلاک اور 6 زخمی ہو گئے۔کیوبا کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے اپنی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والی کشتی کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے فوری بعد لاشوں اور زخمیوں کو کشتی سے نکال کر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حکام نے واقعے کی باقاعدہ تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی امریکی کارروائی نہیں تھی اور نہ ہی اس واقعے میں امریکی حکومت کا کوئی اہلکار یا نمائندہ ملوث تھا۔مارکو روبیو کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی تحقیقات کے لیے صرف کیوبا کے بیان پر تکیہ نہیں کریں گے، ہمیں پورا یقین ہے کہ ہم اصل کہانی تک پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے کھلے سمندر میں اس طرح کی فائرنگ کو انتہائی غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ معلومات جمع کرنے کے بعد ہی جوابی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔دوسری جانب، ریاست فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اتھمیئر نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبن حکومت پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا اور کمیونسٹ انتظامیہ کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے تمام وسائل استعمال کیے جائیں گے۔کیوبا کے حکام نے کشتی سے حراست میں لیے گئے 6 افراد کی شناخت ظاہر کر دی ہے، جن میں امیجائل سانچیز گونزالیز اور لیورڈن اینریک کروز گومز شامل ہیں۔ کیوبا کا دعویٰ ہے کہ یہ دونوں افراد دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے شبہ میں انہیں پہلے سے مطلوب تھے۔دیگر چار زیر حراست افراد کی شناخت کونراڈو گالینڈو ساریول، جوس مینوئل روڈریگز کاسٹیلو، کرسٹیان ارنسٹو اکوسٹا گیوارا اور رابرٹو ازکورا کونسوئیگرا کے ناموں سے ہوئی ہے۔مزید برآں، کیوبا نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے جزیرے سے ایک اور شخص، ڈونیئل ہرنینڈز سانتوس کو بھی گرفتار کیا ہے جو مبینہ طور پر امریکا سے ان افراد کا استقبال کرنے کے لیے وہاں پہنچا تھا۔
کیوبا کی سیکیورٹی فورسز کی امریکی کشتی پر فائرنگ، 4 افراد ہلاک
مقالات ذات صلة



