آسام میں این ڈی اے تو کیرالہ میں کانگریس فرنٹ کو اکثریت
نئی دہلی 04 مئی (یو این آئی) پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کی ووٹوں کی گنتی کے رجحانات میں مغربی بنگال اور تامل ناڈو میں بڑے الٹ پھیر کے امکان کے ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی بنگال میں اپنے دم پر زبردست اکثریت حاصل کرنے جا رہی ہے، وہیں تامل ناڈو میں اداکار وجے کے کرشمے کے دم پر ٹی وی کے واضح طور پر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھری ہے۔ کیرالہ میں اقتدار کی تبدیلی کے اشاروں کے درمیان ایک دہائی کے بعد کانگریس کی قیادت میں متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کی حکومت بننے کا قوی امکان ہے۔ آسام اور پڈوچیری میں قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) حکومت کی واپسی یقینی لگ رہی ہے۔الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق ایک بجے تک مغربی بنگال میں ایگزٹ پول کے اندازوں کے مطابق بی جے پی کو واضح برتری مل رہی ہے اور وہ اکیلے دم پر زبردست اکثریت حاصل کرنے جا رہی ہے۔ ریاست کی 294 اسمبلی نشستوں میں سے 284 کے ابتدائی رجحانات میں اپوزیشن بی جے پی 187 جبکہ حکمراں ترنمول کانگریس صرف 92 نشستوں پر آگے چل رہی ہے۔ سال 2021 کے انتخابات میں ترنمول نے 220 اور بی جے پی نے 71 نشستیں جیتی تھیں۔تامل ناڈو میں بھی رجحانات میں ایگزٹ پول کے برعکس بڑا الٹ پھیر دیکھنے کو ملا ہے۔ ریاست میں ابھی تک رجحانات میں کسی بھی جماعت کو واضح اکثریت کے اشارے نہیں ملے ہیں، لیکن اسمبلی کی 234 میں سے 224 نشستوں کے رجحانات میں ٹی وی کے غیر متوقع طور پر 110 نشستوں کے ساتھ سب سے آگے ہے۔ انا ڈی ایم کے دوسرے نمبر پر 57 نشستوں پر اور حکمراں ڈی ایم کے 48 نشستوں پر آگے رہتے ہوئے تیسرے نمبر پر ہے۔ کانگریس 4 اور پی ایم کے 5 نشستوں پر آگے ہے۔ پچھلے انتخاب میں ڈی ایم کے اتحاد کو 158 جبکہ انا ڈی ایم کے اتحاد کو 69 نشستیں ملی تھیں۔آسام اسمبلی کی 126 میں سے 124 نشستوں کے رجحانات موصول ہوئے ہیں اور ان میں این ڈی اے کو واضح اکثریت ملتی دکھائی دے رہی ہے۔ رجحانات میں بی جے پی کو 79، کانگریس کو 24، آسام گن پریشد کو 09 اور بوڈولینڈ پیپلز فرنٹ (بی او پی ایف) کو 10 نشستوں پر برتری حاصل ہے۔ پچھلے انتخابات میں این ڈی اے کو 74، کانگریس اتحاد کو 28 اور اے یو ڈی ایف کو 15 نشستیں ملی تھیں۔کیرالہ میں اندازوں کے مطابق کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ کو اکثریت ملنے جا رہی ہے۔ اسمبلی کی 140 میں سے 127 نشستوں کے رجحانات ملے ہیں جن میں سے کانگریس کو 63، اس کی حلیف جماعت انڈین یونین مسلم لیگ کو 23، مارکسی کمیونسٹ پارٹی کو 25، بھارتیہ کمیونسٹ پارٹی کو 09 اور کے ایف سی کو 7 نشستوں پر برتری مل رہی ہے۔ پچھلے انتخاب میں بائیں بازو کے جمہوری محاذ (ایل ڈی ایف) کو 94 اور متحدہ محاذ کو 42 نشستیں ملی تھیں۔پڈوچیری اسمبلی کی 30 میں سے 16 نشستوں کے نتائج اور ابتدائی رجحانات موصول ہوئے ہیں جن میں این ڈی اے کے اکثریت کی طرف بڑھنے کے اشارے ملے ہیں۔ اے آئی این آر سی نے چھ نشستیں جیت لی ہیں اور اس کے امیدوار تین نشستوں پر آگے ہیں۔ آزاد امیدوار ایک نشست پر جیت کے ساتھ دو نشستوں پر آگے چل رہے ہیں۔ بی جے پی نے ایک نشست جیتی ہے اور ایک پر آگے ہے۔ کانگریس اور انا ڈی ایم کے نے بھی ایک ایک نشست جیتی ہے۔
