ہومInternationalایران کو چین کی جانب سے میزائل بھیجنے پر امریکی شکوک و...

ایران کو چین کی جانب سے میزائل بھیجنے پر امریکی شکوک و شبہات

چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اس دعوے کی سختی سے تردید کر دی

واشنگٹن 13 اپریل (ایجنسی) امریکی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس ایجنسیوں کو ایسی معلومات ملی ہیں کہ چین نے حالیہ ہفتوں میں ممکنہ طور پر ایران کو کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائلوں (MANPADS) کی کھیپ بھیجی ہے تاکہ وہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع میں اس کی مدد کر سکے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ انٹیلی جنس معلومات حتمی نہیں ہیں اور اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ان چینی میزائلوں کو تنازع کے دوران امریکی یا اسرائیلی افواج کے خلاف استعمال کیا گیا ہو، جیسا کہ امریکی اخبار نیویارک ٹائمزنے رپورٹ کیا۔بیجنگ میں ایران کو میزائل بھیجنے پر ہونے والی بحث سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اس تنازع کو کس قدر اہمیت دے رہا ہے۔ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے مطابق چین خفیہ طور پر اس جنگ میں زیادہ فعال کردار ادا کر رہا ہے اور بعض کمپنیوں کو کیمیائی مواد، ایندھن اور ایسے پرزے ایران بھیجنے کی اجازت دے رہا ہے، جو فوجی پیداوار میں استعمال ہو سکتے ہیں۔کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔چین اب تک ایران کو براہِ راست فوجی سازوسامان فراہم کرنے میں محتاط رہا ہے، تاہم چینی حکومت کے بعض عہدیدار اس بات کے حامی ہیں کہ کمپنیوں کو ایران کو براہِ راست ہتھیار فراہم کرنے کی اجازت دی جائے۔اگر چینی حکومت میزائلوں کی ترسیل کی اجازت دیتی ہے تو یہ ایک خطرناک پیش رفت اور کشیدگی میں اضافہ تصور کیا جائے گا، اور اس بات کا اشارہ ہوگا کہ چین کے کچھ رہنما امریکا کو اس جنگ میں فوجی نقصان پہنچانے کے خواہاں ہیں۔مزید برآں امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ایسے شواہد بھی حاصل کیے ہیں کہ روس نے ایرانی فوج کو مخصوص سیٹلائٹ انٹیلی جنس فراہم کی، جس سے پاسدارانِ انقلاب کو امریکی بحری جہازوں اور مشرق وسطیٰ میں فوجی و سفارتی تنصیبات کو نشانہ بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔یہ حمایت ظاہر کرتی ہے کہ امریکا کے حریف اس جنگ کو امریکا کے لیے زیادہ مہنگا بنانے اور اسے طویل تنازع میں الجھانے کا موقع سمجھ رہے ہیں۔ایران کے لیے چینی حمایت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب امریکا اور چین کے تعلقات ایک نازک مرحلے میں ہیں۔مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ چین کا دورہ کرنے والے ہیں ،جہاں ان کی ملاقات صدر شی جن پنگ سے متوقع ہے اور اس سربراہی اجلاس میں تجارتی، ٹیکنالوجی اور عسکری امور زیرِ بحث آئیں گے۔یہ ملاقات پہلے مارچ میں ہونا تھی مگر ایران کے ساتھ جنگ کے باعث مؤخر کر دی گئی۔امریکی انٹیلی جنس ادارے روس اور چین کی جانب سے ایران کو دی جانے والی حمایت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق روس نسبتاً زیادہ سرگرم رہا ہے اور اس نے غذائی امداد، غیر مہلک فوجی سامان اور سیٹلائٹ تصاویر فراہم کیں، تاہم اس نے امریکا کو مشتعل کرنے کے خدشے کے پیش نظر براہِ راست جنگی ہتھیار دینے سے گریز کیا۔چینی حکام عموماً خود کو عوامی سطح پر غیر جانبدار ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم امریکی سابق حکام کے مطابق ایران اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے چینی پرزوں پر انحصار کرتا ہے۔چین ان پرزوں کو دوہرے استعمال (dual-use) کا جواز دے سکتا ہے کیونکہ وہ صرف ہتھیاروں تک محدود نہیں ہوتے۔چین نے ایران کو کچھ انٹیلی جنس معلومات اور دوہرے استعمال کے پرزے بھی فراہم کیے، جیسا کہ اس نے یوکرین جنگ کے دوران روس کے ساتھ کیا تھا۔سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق چین آئندہ ہفتوں میں ایران کو کندھے پر رکھ کر چلائے جانے والے میزائل بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے، تاہم امریکا میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے اس دعوے کی سختی سے تردید کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق چین آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے، اس لیے وہ جنگ کو طول دینے والے کسی بھی اقدام سے گریز کرنا چاہتا ہے، اگرچہ بعض چینی عہدیدار ایران کی حمایت میں دلچسپی رکھتے ہیں تاکہ امریکا کی طاقت کو کمزور کیا جا سکے۔چین ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار اور اس کے تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایک امریکی رپورٹ کے مطابق چینی خریداری ایران کی تیل برآمدات کا تقریباً 90 فیصد ہے، جو ایرانی حکومت اور اس کی عسکری سرگرمیوں کے لیے اربوں ڈالر کی آمدنی فراہم کرتی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات