ایرانی سیاسی نظام مضبوط، لاریجانی و دیگر حکام کے قتل سے دھچکا نہیں لگا: عباس عراقچی
ایران کے طاقتور سیکیورٹی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی خبر نے مشرقِ وسطیٰ میں ہلچل مچا دی ہے۔لاریجانی وہ شخصیت تھے جو فوج (آئی آر جی سی)، مذہبی قیادت اور سیاسی اشرافیہ تینوں کو ایک ساتھ جوڑ کر رکھتے تھے، آیت اللّٰہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد وہ غیر رسمی طور پر نظام کے سب سے طاقت ور فرد بن گئے تھے۔ اس کے علاوہ وہ نظام کا دماغ سمجھے جاتے تھے ۔علی لاریجانی کو ایران کے طاقتور ترین پالیسی سازوں میں شمار کیا جاتا تھا، بطور سیکریٹری سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل، وہ دفاعی حکمتِ عملی، ایٹمی پروگرام اور خارجہ تعلقات کی نگرانی کر رہے تھے۔انہیں ایک ایسی شخصیت سمجھا جاتا تھا جو فوج، مذہبی قیادت اور سیاسی حلقوں کے درمیان توازن قائم رکھتی تھی۔مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے بعد لاریجانی کا کردار مزید نمایاں ہو گیا تھا، جبکہ نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کم دکھائی دے رہے تھے۔حال ہی میں لاریجانی کو تہران میں حکومتی ریلی میں عوام کے درمیان دیکھا گیا تھا، جو ایران کے مؤقف کا کھلا اظہار تھا۔اریجانی ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور عالمی مذاکرات میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے، انہوں نے 2015ء کے جوہری معاہدے کی حمایت کی تھی، جس سے بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ الگ ہو گئے تھے۔علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایران میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے، اندرونی سیاسی کشمکش بڑھ سکتی ہے اور خطے میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔ان کے جانے سے پاور ویکیوم پیدا ہو سکتا ہے، مختلف دھڑوں میں کھینچا تانی بڑھ سکتی ہے، جنگی فیصلے سست یا غیر مؤثر ہو سکتے ہیں اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کمزور ہو سکتا ہے۔



