نئی حکمتِ عملی کی ضرورت پر زور
ڈھاکہ۔7؍ اپریل۔ ایم این این۔ بنگلہ دیشکے ایک معروف اخبار میں شائع ہونے والے ایک تازہ تجزیاتی مضمون میں کہا گیا ہے کہ بدلتی ہوئی عالمی اور علاقائی صورتحال کے پیش نظر بنگلہ دیش اور بھارت کے درمیان تعلقات کو ازسرِنو متوازن اور اعتماد پر مبنی بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ رپورٹ کے مطابق، بنگلہ دیش کی نئی حکومت ایک پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی ماحول میں پالیسی سازی کر رہی ہے، جہاں عالمی سطح پر بڑھتی کشیدگی، خاص طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع، معیشت، توانائی اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، جس میں بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی، افغانستان اور پاکستان کے تنازعات، اور نیپال و سری لنکا میں سیاسی تبدیلیاں شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دہائی میں بنگلہ دیش کے ایک بڑے طبقے میں بھارت کے حوالے سے عدم اطمینان میں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر بھارت کی جانب سے عوامی لیگ کی حمایت اور بعض معاہدوں کو غیر متوازن قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ تیستا دریا کے پانی کی تقسیم کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ بھارت میں بنگلہ دیشی شہریوں اور بنگالی بولنے والوں کے حوالے سے بعض سیاسی بیانیے بھی دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کو بڑھا رہے ہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر پھیلنے والی معلومات اور بعض واقعات نے عوامی سطح پر فاصلے پیدا کیے ہیں۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان پائیدار تعلقات کے لیے باہمی احترام، خودمختاری کا خیال، اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ ساتھ ہی سرحدی سکیورٹی، انسانی اسمگلنگ، منشیات اور غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل پر مشترکہ تعاون کو بھی ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔ تجزیہ کار کے مطابق، عوامی سطح پر روابط کو بہتر بنانے کے لیے ویزا پالیسی میں آسانی، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون، اور پانی کی منصفانہ تقسیم جیسے اقدامات اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ رپورٹکے اختتام پر کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے اعتماد کی بحالی، علاقائی تعاون اور مشترکہ ترقی کی جانب پیش رفت کریں تاکہ خطے میں استحکام اور امن کو یقینی بنایا جا سکے۔



