الیکشن کمیشن نے تین بی ایل اوز کے خلاف کارروائی شروع کی
کولکاتہ: مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن کے دوران ایک بار پھر بڑا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کے اس سنگین الزام کے بعد کہ کچھ زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دے کر فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے، الیکشن کمیشن نے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے تین بوتھ لیول آفیسرز کے خلاف وجہ بتاؤ نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ اس کارروائی نے نہ صرف سیاسی درجۂ حرارت بڑھا دیا ہے بلکہ پورے ووٹر لسٹ سسٹم کی ساکھ پر بھی سوال کھڑے کر دیے ہیں۔2 جنوری کو باروئی پور میں ایک عوامی ریلی کے دوران ابھیشیک بنرجی نے تین افراد کو اسٹیج پر لا کر دعویٰ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے انہیں غلطی سے ’مردہ‘ ووٹر قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے عوام کے سامنے کہا تھا،یہ لوگ زندہ ہیں، ہمارے سامنے کھڑے ہیں، لیکن کمیشن نے انہیں مردہ قرار دے کر ووٹر لسٹ سے باہر کر دیا۔ اس کی ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔اس بیان کے فوراً بعد معاملہ سیاسی طوفان میں تبدیل ہو گیا۔الیکشن کمیشن نے اس الزام کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے جنوبی 24 پرگنہ کے ضلع مجسٹریٹ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی۔ ابتدائی جانچ کے بعد ہفتہ کی شام تین مختلف بوتھوں کے بی ایل اوز کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے۔ چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) کے دفتر نے واضح کر دیا ہے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ غلطی جان بوجھ کر کی گئی تھی تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی ہوگی۔کمیشن کے ذرائع کے مطابق جن تین ووٹروں ،منیرال مولا، مایا داس اور ہری کرشنا گیری کو مردہ ووٹر لسٹ میں شامل کر دیا گیا تھا، ان کا معاملہ ابتدائی جانچ میں ’غیر ارادی غلطی‘کا نتیجہ بتایا گیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان کے نام متعلقہ بوتھ کی چھپی ہوئی فہرست میں موجود نہیں تھے، لیکن غلطی سے آن لائن ڈیٹا اپ لوڈ کرتے وقت انہیں مردہ ووٹروں کی فہرست میں ڈال دیا گیا۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد بی ایل اوز نے ان ووٹروں کے گھروں کا دورہ کیا، ضروری فارم بھروائے اور ان کے نام دوبارہ ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔یہ پورا تنازعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پہلے ہی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر ایس آئی آر کے نام پر عام لوگوں کو ہراساں کرنے کا الزام لگا چکی ہیں۔ ایسے میں زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دیے جانے کا معاملہ کمیشن کے لیے ایک اور بڑا سیاسی اور انتظامی امتحان بن گیا ہے، جس پر آنے والے دنوں میں مزید ہلچل دیکھنے کو مل سکتی ہے۔



