این سی ای آرٹی کی متنازعہ کتاب پر سی جے آئی کا سخت انتباہ
سی جے آئی نے سینئر وکلاء کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں قانون اپنا کام کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑی تو ازخود نوٹس لے کرعدالت کارروائی کرے گی۔عام لوگوں کے درمیان عدالیہ میں بدعنوانی کا خیال آتے ہی روح کانپ جاتی ہے مگرملک میں تعلیم کا نصاب طے کرنے والے این سی ای آر ٹی کے نصاب میں اس حوالے سے ایک پورا باب شامل کیا گیا ہے جس پرتنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے این سی ای آرٹی کلاس 8 کی سوشل سائنس کی کتاب میں عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق مواد کا ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ہندوستان کے چیف جسٹس (سی جے آئی) سوریہ کانت نے این سی ای آرٹی کی کتاب میں ’عدلیہ میں بدعنوانی‘ سے متعلق باب پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کا ازخود نوٹس لے رہے ہیں۔ کسی کو بھی اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ عدلیہ کو بدنام کرے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ میں کسی کو بھی ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا۔ اس سلسلے میں قانون اپنا کام کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑی تو ازخود نوٹس لے کرعدالت کارروائی کرے گی۔معاملہ اس ایک متن سے متعلق ہے جس میں عدلیہ میں بدعنوانی سے متعلق ایک باب شامل کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں سینئر وکلاء کپل سبل اور ابھیشیک منو سنگھوی نے عدالت کے سامنے یہ معاملہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اسکول کے بچوں کو ایسا مواد پڑھایا جانا تشویشناک ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں اس موضوع پر متعدد فون کالز اور پیغامات موصول ہوئے ہیں اور وہ اس معاملے سے پوری طرح واقف ہیں۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ میں اس ادارے کو بدنام کرنے کی اجازت نہیں دوں گا، مجھے معلوم ہے کہ اس سے کس طرح نمٹنا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک منصوبہ بند اور جان بوجھ کرکی گئی سازش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر مزید تبصرہ نہیں کرنا چاہتے لیکن مناسب قدم اٹھائے جائیں گے۔سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی تھی۔ ابھیشیک منو سنگھوی نے بھی کہا تھا کہ اس طرح کے مواد سے طلباء میں عدلیہ کے بارے میں منفی پیغام جا سکتا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا نے معاملہ عدالت کی توجہ میں لانے کے لیے دونوں سینئر وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔بتادیں کہ این سی ای آر ٹی کی کلاس 8 کی سوشل سائنس کی کتاب کے ایک باب میں ’’عدلیہ میں بدعنوانی‘ کے عنوان سے مواد شامل کیا گیا ہے جس پرتنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ اس نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے اورپورے معاملے کو سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔
عدالت نے یقین دلایا کہ مناسب اور قانونی قدم اٹھائے جائیں گے۔ آخرمیں چیف جسٹس نے کہا کہ عدلیہ کا وقاراورمعتبریت کو برقرار رکھنا اولین ترجیح ہے۔



