یورپی ممالک کا جنگی جہاز بھیجنے سے انکار ؛ جنگ کے خاتمے کے بعد تک مؤخر کرنے کا عندیہ دیا
روم، 5 اپریل (یواین آئی): آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمد و رفت بحال کرنے کے لیے چالیس ممالک کے اعلیٰ حکام نے ویڈیو لنک کے ذریعے اہم اجلاس منعقد کیا، تاہم اس سلسلے میں کوئی مشترکہ اور قابلِ عمل حکمت عملی سامنے نہ آ سکی۔اجلاس کے دوران اٹلی کے وزیر خارجہ نے ایک “انسانی راہداری” قائم کرنے کی تجویز پیش کی، جس کا مقصد غریب ممالک تک کھاد اور بنیادی ضروری اشیاء کی محفوظ ترسیل کو یقینی بنانا تھا۔اطالوی حکام نے بعد ازاں اس تجویز کو یورپی اور بین الاقوامی سطح پر جاری متعدد اقدامات کا حصہ قرار دیا، جن کا ہدف ایران سے جاری جنگ کے نتیجے میں ممکنہ بڑے پیمانے پر قحط کو روکنا ہے۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق اجلاس میں شریک سفیروں نے اس تجویز کی حمایت نہیں کی اور اجلاس کسی واضح منصوبے کے بغیر اختتام پذیر ہوا، جس میں آبنائے ہرمز کو سفارتی یا عسکری سطح پر کھولنے کا کوئی عملی لائحہ عمل طے نہ ہو سکا۔ادھر یورپی ممالک کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ کا سامنا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے عائد پابندیوں کے خاتمے اور عالمی توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے فوری عسکری اقدامات کریں، تاہم یورپی ممالک نے جنگی جہاز بھیجنے سے انکار کرتے ہوئے اس معاملے کو جنگ کے خاتمے کے بعد تک مؤخر کرنے کا عندیہ دیا ہے۔مشترکہ حکمت عملی پر اتفاق رائے میں رکاوٹ یورپی سفارت کاری کی سست روی اور شامل ممالک کی بڑی تعداد کو قرار دیا جا رہا ہے، جن میں خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں جو تنازع کے بعد آبنائے کی سکیورٹی یقینی بنانے کی خواہاں ہیں۔ اٹلی اور جرمنی نے کسی بھی بین الاقوامی اقدام کے لیے اقوام متحدہ کی منظوری کو ناگزیر قرار دیا ہے، جس سے پیش رفت میں تاخیر کا خدشہ ہے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے تجویز دی ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد فرانسیسی بحری جہاز تجارتی جہازوں کی حفاظت میں کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ امریکہ نے یورپ اور جاپان جیسے اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے جہازوں کی نگرانی اور سکیورٹی خود یقینی بنائیں۔جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریس نے امریکی بحری طاقت کے مقابلے میں یورپی بحری وسائل کی محدود صلاحیت پر سوال اٹھایا ہے، جبکہ بڑھتے اخراجات اور ناکافی فضائی دفاعی نظام بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔جرمنی اور بیلجیئم نے جنگ کے بعد آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے لیے مائن سویپرز بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم مغربی ممالک کو اس بات پر یقین نہیں کہ آیا ایران نے واقعی وہاں بارودی سرنگیں نصب کی ہیں، خاص طور پر جب بعض ایرانی جہاز اب بھی اس راستے سے گزر رہے ہیں۔اس منصوبے میں امریکی تعاون سے لڑاکا طیاروں اور ڈرونز کی تعیناتی بھی شامل ہو سکتی ہے تاکہ ممکنہ حملوں کو روکا جا سکے، تاہم ماہرین کے مطابق یہ حکمت عملی مہنگی ہونے کے ساتھ مکمل طور پر مؤثر بھی ثابت نہیں ہو سکتی۔یورپی حکمت عملی میں ایران پر سفارتی و معاشی دباؤ بڑھانے کے ساتھ ساتھ عسکری اقدامات کو بھی شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ جرمن وزیر خارجہ نے چین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے، تاہم اب تک سفارتی کوششیں جنگ روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ایرانی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جنگ کے بعد بھی آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت کو کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے۔ماہرین کے مطابق اگر یہ ناکہ بندی برقرار رہی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے، کیونکہ متعدد ممالک ایندھن اور کھاد کی ترسیل کے لیے اسی اہم آبی گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔ یورپ میں توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں نے افراط زر اور معاشی سست روی کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔برلن میں “اورورا انرجی ریسرچ” کے ڈائریکٹر ہانس کوینگ کے مطابق بلند قیمتیں معاشی ترقی کی رفتار کو متاثر کر رہی ہیں اور جمود آمیز افراط زر کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔



