صدر شعبہ اردوڈاکٹر رضوان علی سمیت ممتاز پروفیسر کی موجودگی میںکتاب کی رسم راجراء
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،8؍اپریل:رانچی یونیورسٹی میں قومی سمینار کے موقع پر اہم تصنیف ’’برصغیر کے حسین برادران اور اردو ادب‘‘ کی اجرارانچی 9اپریل (نمائندہ)رانچی یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں منعقدہ قومی سمینار بعنوان “بھارتی تہذیب، ثقافت اور اردو ادب” کے موقع پر ایک اہم کتاب”بر صغیر کے حسین برادران اور اردو ادب“ کی رسمِ اجرا عمل میں آئی۔ یہ کتاب اردو افسانہ، شاعری، ہندوستانی سیاست اور برصغیر کی سماجی و سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں چار اہم شخصیات—پروفیسر جابر حسین، اختر پیامی، سعید اختر اور شین اخترکی حیات و خدمات پر مبنی ہے۔ اس نادر تصنیف کے مصنف شعبۂ اردو، رانچی یونیورسٹی کے سابق طالب علم ڈاکٹرانظار الحق انصاری ہیں ۔جو اس وقت ضلع پلّامو کے مقام پانکی میں واقع ایک سرکاری مکتب میں بطور معلم خدمات انجام دے رہے ہیں۔کتاب کی رسمِ اجرا قومی سمینار کے دوران معزز مہمانوں اور اہلِ علم کی باوقار موجودگی میں انجام پائی۔ اس موقع پر پروفیسر شین اختر کی صاحبزادی ناہید اختر کی خصوصی شرکت نے تقریب کو مزید وقار بخشا اور کتاب کا اجراء نہایت خوشگوار اور پُراثر ماحول میں ہوا۔شعبۂ اردو کے صدر، ڈاکٹر محمد رضوان علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اختر پیامی کی زندگی برصغیر کی تاریخ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ انہوں نے متحدہ بہار، بنگلہ دیش اور ڈھاکہ میں زندگی گزاری اور تقسیم کے بعد اپنے کٹھن حالات کا ذکر کرتے ہوئے متعدد بار پنڈت جواہر لعل نہرو کو خطوط لکھ کر بہار واپس آنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔اس موقع پر مہمانِ خصوصی کے طور پر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروفیسر محمد علی جوہر، پٹنہ یونیورسٹی کے پروفیسر شہاب ظفر اعظمی، آئی کیو اے سی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈاکٹر اے کے ڈیلٹا،قومی سیمینار کے کنوینر ڈاکٹر اعجاز احمد، ناہید اختر، ڈاکٹر ابرار احمد اور پروفیسر شاکر تسنیم،پروفیسر ارشد اسلم سمیت متعدد اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز موجود تھے۔تقریب میں پروفیسر ارچنا دوبے، ڈاکٹر ذاکر اللہ مصباحی، ڈاکٹر حیدر علی، مولانا وارث جمال، ڈاکٹر شمس الحق، نازنین خاتون، نازنی خاتون، نہا پروین، انتخاب علی، مہتاب عالم، قاری عبداللہ، محمد توحید، محمد اطہر اور شاہنواز انصاری وغیرہ بھی شریک تھے۔



