حکومت کی شفافیت پر حکمراں جماعت کے ارکان نے تعریف کی، اپوزیشن نے کہا ’کارپوریٹ کی حکومت‘
نئی دہلی، 05 فروری (یواین آئی) راجیہ سبھا میں جمعرات کو صدر کے خطبہ پر شکریہ کی تحریک پر جاری بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے حکمراں جماعت کے ارکان نے بدعنوانی ختم کر کے فلاحی اسکیموں کا پورا پیسہ مستحقین تک پہنچانے کے لیے حکومت کی تعریف کی، جبکہ اپوزیشن نے اس پر “کارپوریٹ کی حکومت” ہونے کا الزام لگایا۔مدھیہ پردیش سے بی جے پی کی مایا نارولیا نے کہا کہ پچھلی حکومت میں نیت کی کمی تھی جس کی وجہ سے جب وہ ایک روپیہ مرکز سے بھیجتے تھے تو مستحقین تک صرف 15 پیسے پہنچتے تھے۔ مودی حکومت نے بدعنوانی اور رشوت ستانی پر قابو پایا اور مکمل شفافیت قائم کی جس سے اب فلاحی اسکیموں کا پورا پیسہ مستحقین کے کھاتے میں پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی معیشت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور تیسری بڑی معیشت بن گیا ہے۔اترپردیش سے بی جے پی کی سنگیتا بلونت نے مودی حکومت کی پالیسیوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اسی کا نتیجہ ہے کہ پچھلے ایک دہائی میں 25 کروڑ لوگ غربت کی لکیر سے باہر نکلے ہیں۔ یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ فلاحی اسکیموں کا فائدہ بغیر کسی لیکیج اور دلال کے سیدھا لوگوں تک پہنچے۔ ریکارڈ اناج پیداوار ہوئی ہے۔ بارہ لاکھ کروڑ روپے تک کی آمدنی کو ٹیکس سے مستثنیٰ کر کے اور جی ایس ٹی میں نئے اصلاحات سے متوسط طبقے کو فائدہ ملا۔ سال 2014 کے بعد ملک بدلا، سوچ بدلی۔اتراکھنڈ سے بی جے پی کے مہندر بھٹ نے کہا کہ مودی حکومت کی اسکیموں اور پالیسیوں کے دم پر ہندوستان ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھرا ہے۔ آج کا نوجوان صرف نوکری کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ دوسروں کو نوکری دے رہا ہے۔ اس میں مدرا یوجنا کا بڑا کردار ہے۔ کسان سمان ندھی نے کسانوں کو اعتماد دیا ہے۔ فصل بیمہ اسکیم سے ان کے دل میں یقین پیدا ہوا ہے۔ کم سود پر قرض سے ماہی پروری، شہد کی مکھی پالنے والے نوجوانوں کی آمدنی بڑھی ہے۔ آیوشمان اسکیم غریبوں کے لیے بہت بڑا تحفہ رہی ہے۔بی جے پی کے نامزد رکن ستنام سنگھ سندھو نے صدر کے خطبہ میں گرو تیغ بہادر کی وانی کے ذکر پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے پنجابی میں اپنی بات رکھی۔ خطبہ میں آٹھ بار کسان اور دس بار غریبوں کا ذکر ہے۔ یہ دکھاتا ہے کہ حکومت کے لیے شمولیت محض نعرہ بازی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدھ کو ایک افسوسناک واقعہ ہوا جس میں پارلیمنٹ کی سیڑھیوں پر ایک پگڑی والے سردار وزیر کو غدار کہہ کر ان کا مذاق اڑایا گیا۔ اس سے پوری دنیا میں سکھ دکھی ہیں۔ یہ واقعہ افسوسناک ہے۔اتر پردیش سے بی جے پی رکن بابو رام نشاد نے کہا کہ کانگریس کی پچھلی حکومتوں نے بے روزگاری پر دھیان نہیں دیا۔ پچھلے 11 سال میں مودی حکومت نے علاقائی مہارت کی بنیاد پر لوگوں کو کام دیا ہے۔ آج گاؤں سے ہجرت رک گئی ہے۔ لوگ اپنی زمین بیچ کر جا نہیں رہے ہیں بلکہ اسے محفوظ رکھ رہے ہیں۔ حکومت نے سالانہ چھ ہزار روپے کسان سمان ندھی میں دینے کا کام کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے بعد پہلی بار کسی حکومت نے ماہی گیروں کے لیے کام کیا ہے۔ انہیں پانی، بیت الخلا، مکان، تعلیم اور روزگار دیا گیا ہے، تبھی ملک آج مچھلی پیداوار میں دوسرے نمبر پر ہے۔ترنمول کانگریس کی ڈولا سین نے بنگلہ میں اپنے خیالات رکھے۔ انہوں نے حکومت پر مغربی بنگال کے ساتھ سوتیلا سلوک کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے پوچھا کہ اس حکومت کی پالیسی بنگال کے لوگوں کے خلاف کیوں ہے۔ انہوں نے حکومت پر “کارپوریٹ کی حکومت” ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ “غریب اور غریب ہو رہا ہے جبکہ کاروباری پھل پھول رہے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ ایس آئی آر کی وجہ سے مغربی بنگال میں کئی ملازمین کی موت ہو گئی، اس لیے مودی حکومت کے ہاتھ خون سے رنگے ہیں اور اسی لیے ان کی پارٹی ایوان سے واک آؤٹ کر رہی ہے۔



