خواتین کو فیصلہ سازی کا مرکز بنایا جائے: وزیر دپیکا پانڈے سنگھ کا ریاستی کانفرنس میں خطاب
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی:دیہی ترقیاتی محکمہ کی جانب سے منگل، 4 فروری 2026 کو بی این آر چانکیہ، رانچی میں ’منریگا خواتین میٹس کے تجربات کے تبادلہ اور نمایاں میٹس کے اعزاز‘ کے عنوان سے ایک ریاستی سطحی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس اہم پروگرام میں دیہی ترقی کی وزیر محترمہ دپیکا پانڈے سنگھ، منریگا کمشنر شری مرتیونجے کمار برنوال، محکمہ جاتی افسران، عوامی نمائندے، مختلف اضلاع سے آئی ہوئی خواتین میٹس اور سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔
کانفرنس کے دوران منریگا کے تحت بہترین کارکردگی انجام دینے والی خواتین میٹس، جن میں سلومینا گدھ (مہواٹانڑ، لاتیہار)، مونیکا منڈو (ٹوکڈ، بندگاؤں)، اسرنتی بارلا (مُرہو) سمیت دیگر شامل ہیں، کو اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر کھونٹپانی میٹ فورم کی صدر روزلن ہائیبرو کو دیہی ترقی کی وزیر کے ہاتھوں تعریفی سند پیش کی گئی، جو نہ صرف ان کے لیے بلکہ کلامندر ادارے کے لیے بھی باعثِ فخر لمحہ قرار دیا گیا۔
دیہی ترقیاتی محکمہ کے نمائندے شری انوپم نے اپنے خطاب میں معیار اور مساوی مواقع کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح گھر کے ہر بچے کو برابر مواقع ملنے چاہئیں، اسی طرح ترقی کے عمل میں بھی ہر فرد اور ہر پودے کو یکساں موقع دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے جامع اور منصفانہ ترقی کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
منریگا کمشنر شری مرتیونجے کمار برنوال نے بتایا کہ منریگا میں خواتین کی شمولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اس وقت 52 فیصد جاب کارڈ خواتین کے نام پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 93 ہزار خاندانوں کو 100 دنوں کا روزگار فراہم کیا گیا ہے، جو پہلے 60 ہزار تھا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ادائیگی سے متعلق تکنیکی مسائل کے جلد حل کی یقین دہانی کرائی۔
دیہی ترقی کی وزیر محترمہ دپیکا پانڈے سنگھ نے کہا کہ گرام سبھا سے قبل خواتین سبھا اور بال سبھا کا انعقاد ضروری ہے، تاکہ خواتین کی آواز کو ترجیح دی جا سکے اور منصوبے حقیقی ضرورتوں کے مطابق تیار ہوں۔ انہوں نے آم باغبانی، ماحولیاتی خدمات کے جائزے، سیاسی بااختیاری، سروجن پنشن اسکیم اور ’کام مانگو ابھیان‘ کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ خواتین میٹس کے لیے ہیلتھ انشورنس سے متعلق محکمہ جاتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا۔
کانفرنس میں قوانین اور پالیسیوں میں بہتری، خواتین کے خلاف تشدد کے معاملات پر مؤثر اقدامات اور ریاستی سطح پر فوری رپورٹنگ ٹیم کی ضرورت پر بھی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ جو افراد جسمانی مشقت کے قابل نہیں ہیں، ان کے لیے منریگا کے تحت کس نوعیت کے کام تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔
کلامندر ادارے کی جینڈر افسر محترمہ اینجیلا ہونہاگا نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ خواتین میٹس کو محض ’میٹ‘ نہیں بلکہ ’مرانگ دیدی‘ یعنی گاؤں کی بڑی بہن کے طور پر پہچان دی گئی ہے، جو تقریباً 40 خاندانوں کو منریگا کے تحت روزگار فراہم کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ میٹس کو صرف منریگا تک محدود نہ رکھتے ہوئے واٹرشیڈ (رج ٹو ویلی) اپروچ کی تربیت دی گئی تاکہ وہ ہمہ جہتی دیہی ترقی کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
خواتین کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں خواتین سے متعلق اسکیموں، قانونی دفعات اور ون اسٹاپ سینٹر سے واقف کرایا گیا۔ معاشی بااختیاری کے لیے پنچایت سطح پر مالی خواندگی کی تربیت اور XLRI میں خصوصی فنانشل لٹریسی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
محترمہ اینجیلا ہونہاگا نے کہا کہ جب خواتین گھر سے باہر نکل کر کماتی ہیں اور قیادت سنبھالتی ہیں تو نہ صرف ان کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے بلکہ سماجی شناخت اور خود اعتمادی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ معاشی بااختیاری کے بغیر سماجی بااختیاری نامکمل ہے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ہی خواتین کی حقیقی ترقی ممکن ہے۔



