پٹنہ، 18 جنوری (یواین آئی) بہار اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور سابق نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی پرساد یادو نے اتوار کو ریاست کی نتیش حکومت کو غیر حساس قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی سرپرستی وپشت پناہی میں ہونے والے جرائم کے سبب ریاست میں قانون و انتظام کی صورت حال پوری طرح تباہ ہو گئی ہے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما مسٹر یادو نے کہا کہ ووٹ خرید کر بننے والی یہ حکومت پورے بہار میں نابالغ بچیوں، طالبات، بیٹیوں اور خواتین پر ڈھائے جا رہے مظالم پر آنکھیں موندے بیٹھی ہے۔ حکومت کی سرپرستی میں ہو رہے مظالم کے باوجود حکومت کے کرتا دھرتا رونگٹے کھڑے کر دینے والے واقعات پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور اخلاقیات کا ڈھونگ رچا رہے ہیں۔پارٹی کی جانب سے انہوں نے مدھے پورہ، کھگڑیا اور پٹنہ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ انہوں نے مدھے پورہ میں ایک بیوہ خاتون کے ساتھ اجتماعی عصمت دری اور قتل، کھگڑیا میں چار سالہ نابالغ بچی کے ساتھ بہیمانہ اجتماعی زیادتی اور قتل، اور پٹنہ میں جہان آباد کی نیٹ طالبہ کے ساتھ عصمت دری اور بے رحمانہ قتل کو بہار کی خستہ حال قانون و انتظام کی مثال قرار دیا۔اپوزیشن لیڈرکاالزام ہے کہ ان واقعات کے بعدحکومت کی سرپرستی میں لیپا پوتی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔آر جے ڈی رہنما مسٹر یادو نے یہ بھی کہا کہ جب پٹنہ اور کھگڑیا میں ان واقعات کے خلاف لوگ سڑکوں پر اترے تو پولیس نے متاثرین کو انصاف دلانے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور انہیں جیل بھیج دیا، جب کہ دوسری جانب مجرموں اور عصمت دری کے ملزمان کو ”مہمان“ کی طرح تحفظ اور عزت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا چار سالہ بچی کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرنا جرم ہے؟ کیا متاثرین کے دکھ درد میں شریک ہونا اور ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانا گناہ ہے؟انہوں نے بہار کی قانون و انتظام کی صورت حال کو مکمل طور پرخستہ حال قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی خاموشی اب مجرمانہ ہو چکی ہے۔ا پوزیشن لیڈر مسٹر یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ شاید ہی کسی صحافی کو یاد ہو کہ وزیر اعلیٰ نے آخری بار کب میڈیا سے بات کی تھی۔ مشینری کے سہارے چلنے والی اس حکومت میں ظلم و استحصال دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔آر جے ڈی رہنما مسٹر یادو نے خبردار کیا کہ اگرحکومت کی سرپرستی اور پشت پناہی میں ہونے والے جرائم پر لگام نہ لگی تو عوام اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر اتر کر جدوجہد کریں گے اور حکومت کو یہ دکھایا جائے گا کہ عوامی تحریک کیسے چلائی جاتی ہے۔



