اقلیتی سماج نے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف متحد ہونے کا لیا عہد
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ،11 اپریل: راشٹریہ جنتا دل اقلیتی سیل کی جانب سے تیجسوی پرساد یادو کو راشٹریہ جنتا دل کا قومی کارکاری صدر بنائے جانے کے بعد آج شری کرشن میموریل ہال میں ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں اقلیتی سماج کے لوگ ریاست بھر سے شریک ہوئے اور تمام لوگوں نے تیجسوی یادو کی قیادت میں نفرت کے خلاف اور بھارت کے آئینی نظام کی مضبوطی کے لیے عہد لیا کہ ملک میں گنگا جمنی تہذیب اور بھائی چارے کی مضبوطی کے لیے متحد ہو کر بی جے پی اور آر ایس ایس کی پالیسیوں کی مخالفت کریں گے۔ اس موقع پر قومی کارکاری صدر تیجسوی پرساد یادو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے آئین کی جگہ بی جے پی آر ایس ایس کے آئین کو نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہوگا کیونکہ ملک کے آئینی نظام کے خلاف بی جے پی بھائی کو بھائی سے لڑانا چاہتی ہے اور جذبات کو بھڑکا کر ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخاب جیتنے کے لیے بی جے پی نے جس طرح کا کھیل مغربی بنگال میں ہمایوں کبیر کے ذریعے کیا اس کی پول کھل گئی ہے اور اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ بی جے پی کو اقتدار میں آنے کی کتنی بے چینی ہے اور کس طرح وہاں پر اقلیتوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کی سیاست کی گئی جس کے تمام معاملات سٹنگ آپریشن میں سامنے آ گئے ہیں۔ تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ لالو جی نے اڈوانی کے رتھ کو روک کر ملک کی اتحاد اور سالمیت کو مضبوطی فراہم کی اور ہم لوگ نظریات کے پکے ہیں اس لیے راشٹریہ جنتا دل نظریات کے ساتھ ہمیشہ کھڑا رہا ہے اور سڑک سے لے کر ایوان تک بی جے پی کی لڑانے والی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہو گئی ہے کہ اقلیتی سماج کی سیاسی شراکت داری کو کمزور کرنے کے لیے بی جے پی ہمایوں کبیر جیسے لوگوں کا سہارا لیتی ہے اس لیے ہمیں ایسے لوگوں کی شناخت کرنی ہوگی اور جب لالو جی فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے نہیں جھکے تو ان کا بیٹا تیجسوی بھی کسی کے سامنے نہیں جھک سکتا۔
پردیش آر جے ڈی ترجمان اعجاز احمد نے بتایا کہ اقلیتی سیل کے قومی صدر علی اشرف فاطمی نے تیجسوی پرساد یادو کو حیدرآبادی ٹوپی، صافہ اور گلدستہ دے کر استقبال کیا جبکہ سکھ سماج کی جانب سے انہیں سروپا اور تلوار پیش کر کے اعزاز سے نوازا گیا۔ اس موقع پر سابق مرکزی وزیر علی اشرف فاطمی نے کہا کہ تیجسوی جی کا استقبال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اقلیتی سماج ان کے نظریات کو پسند کرتا ہے اور جس طرح لالو پرساد جی نے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف لڑائی لڑی اسے مضبوطی فراہم کرنے میں تیجسوی جی اپنا بڑا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ بتاتی ہے کہ لالو جی کے دور میں مسلمانوں کی ملازمتوں میں 8 فیصد حصہ داری تھی جبکہ آج ہماری آبادی 18 فیصد ہے لیکن ہم ملازمتوں میں صرف 6 فیصد ہیں کیونکہ بی جے پی اور آر ایس ایس کو مضبوطی دینے والے لوگ اقتدار میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پردیش آر جے ڈی صدر منگنی لال منڈل نے کہا کہ اقلیتی سماج کا لالو جی اور تیجسوی جی کے لیے جو احترام ہے اسے کوئی کم نہیں کر سکتا اور تیجسوی یادو نے 17 ماہ کے دور میں نفرت کے خلاف نوکری اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے کام کیا ہے۔ اس تقریب میں ڈاکٹر کانتی سنگھ، رکن پارلیمان سدھاکر سنگھ، ڈاکٹر تنویر حسن، محمد اسرائیل منصوری، ڈاکٹر شمیم احمد، شیو چندر رام، کاری محمد صہیب، اوسامہ شہاب، محمد آصف، شکتی سنگھ یادو اور دیگر معزز قائدین موجود تھے۔



