جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 6 جنوری: وزیر صحت و قانون منگل پانڈے نے کہا ہے کہ مہاگٹھ بندھن میں دراڑ کے ساتھ ہی بہار میں بچی کھچی اپوزیشن بھی بے دم ہو گئی ہے۔ اسمبلی انتخابات کے دوران کانگریس اور آر جے ڈی کے درمیان پیدا ہونے والی تلخی کے بعد اب کانگریس نے ‘اکلا چلو ‘ (تنہا چلنے) کی راہ پکڑ لی ہے۔اسمبلی انتخابات میں ملنے والی کراری ہار کے بعد سے ویسے بھی اپوزیشن بے سمت اور مقصد سے محروم ہو گئی ہے۔ اپوزیشن کے کھوکھلے وعدوں اور بے بنیاد دعووں کو ٹھکرا کر بہار کی عوام نے پہلے ہی ان کے عزائم پر پانی پھیر دیا تھا۔پانڈے نے کہا کہ فی الحال بے مقصد کانگریس، مرکزی حکومت کے ذریعے ‘وی بی جی رام جی ‘ بل کی مخالفت اور ‘منریگا ‘ کی واپسی کے مطالبے کو لے کر 8 جنوری سے جو ریاست گیر احتجاج کرنے والی ہے، اس سے مبینہ مہاگٹھ بندھن کے دیگر اتحادیوں بشمول آر جے ڈی، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی (ایم ایل) اور وی آئی پی کو بھی الگ رکھا گیا ہے۔اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر انتخابی شکست کے بعد سے جہاں غیر ملکی دوروں میں مصروف رہے، وہیں عوام کی جانب سے مسترد شدہ اور تھکی ہاری کانگریس بہار میں ایک بار پھر ‘منریگا ‘ کے نام پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گی۔کانگریس کے مجوزہ احتجاج میں تنہا چلنے کی راہ اختیار کرنے سے یہ طے ہو گیا ہے کہ ریاست میں مہاگٹھ بندھن کے ختم ہونے کا اب محض رسمی اعلان باقی رہ گیا ہے۔



