مہنگائی اور گیس کی قلت کی وجہ سے مہاجر مزدور گاؤں لوٹنے پر مجبور
پٹنہ: مشہور شاعر آدم گونڈوی کا شعر ہے کہ ‘تمہاری فائلوں میں گاؤں کا موسم گلابی ہے، مگر یہ آنکڑے جھوٹے ہیں، یہ دعویٰ کتابی ہے ‘۔ برسوں پہلے لکھا گیا یہ شعر آج دیہی بھارت کے حقیقی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر سرکار اور انتظامیہ کی نظر سے دیکھا جائے تو کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے، سب کچھ کنٹرول میں ہے۔ تاہم بہار کے مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر لوگوں کا بڑھتا ہجوم یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ “صورت حال خراب ہے۔” اگر آپ اس کی ایک جھلک دیکھنا چاہتے ہیں تو بہار کے کسی بھی ریلوے اسٹیشن پر جائیں جہاں لمبی دوری کی ٹرینیں آ کر رکتی ہیں۔درحقیقت بہار سے لاکھوں لوگ اپنی اور بال بچوں کی روزی روٹی کے لیے دوسری ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہاں اپنا بھی پیٹ بھرنا مشکل ہو جائے تو ایسے میں غریب مزدر کیا کرے؟ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنا بوریا بستر باندھ کر اپنے گاؤں، قصبوں اور گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔ای ٹی وی بھارت کی ٹیم گراؤنڈ زیرو پر پہنچی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ زمینی حقیقت کیا ہے۔ پٹنہ سے بکسر تک ہماری موجودگی رہی۔ جتنے بھی تارکین وطن مزدور بہار آ رہے تھے ان کی زبان پر کم و بیش ایک ہی بات تھی: “گیس کی بڑی دقت ہے، اسی وجہ سے گھر لوٹ آئے۔”
بانکا کے رہنے والے پنٹو کمار نے بتایا کہ وہ دہلی میں ایک کمپنی میں کام کرتے تھے۔ لیکن گیس کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ واپس گھر آنے پر مجبور ہو گئے۔ پنٹو بتاتے ہیں کہ دہلی میں انہیں 400 روپے فی کلو کے حساب سے گیس خریدنی پڑ رہی تھی۔ انہیں کمپنی سے اتنے پیسے نہیں ملتے تھے کہ وہ اپنے ماہانہ اخراجات پورے کر سکیں۔دہلی کے برہمپوری میں رہ کر کام کرنے والے شیوکانت کہتے ہیں کہ گیس بہت مہنگی ہو گئی ہے۔ ہم لوگ کسی طرح خوردہ میں خرید کر کام چلا رہے تھے، لیکن اس مہنگائی میں بڑے شہر میں رہنا مشکل ہے۔ کئی بار ہم نے وہاں لکڑی پر کھانا پکایا، لیکن اب یہ بھی مشکل ہوتا جا رہا تھا۔ مشکلات کو دیکھتے ہوئے ہم نے گھر لوٹنا ہی بہتر سمجھا۔ گھر پر تو کسی طرح گزارا ہو جائے گا۔پڈوچیری سے واپس آنے والا ایک نوجوان روشن کہتے ہیں، “ہم وہاں نوکریوں کے لیے گئے تھے۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، لیکن بحران کے بعد ہمارے لیے گیس ملنا مشکل ہو گئی۔ اسی لیے ہم واپس آ رہے ہیں۔”راکیش روزگار کے لیے اورنگ آباد، مہاراشٹر گئے تھے اور اب واپس آ رہے ہیں۔ راکیش کا کہنا ہے کہ لوگ بہار سے باہر روزی کمانے جاتے ہیں، لیکن اب پیسہ کمانا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ وہاں ہمیں گیس نہیں مل رہی تھی۔ اس لیے ہم اپنے گاؤں واپس جا رہے ہیں۔ ہم گاؤں میں گائے کے گوبر سے کھانا پکا سکتے ہیں۔
بکسر ریلوے اسٹیشن پر ایک اور مہاجر مزدور پنٹو کیشاری کی آنکھوں میں بھی واضح طور پر اپنے خاندان کی فکر جھلک رہی تھی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان کا خاندان بڑا ہے۔ گیس سلنڈر کی بڑھتی ہوئی قلت اور رکاوٹوں نے ان کی کمر توڑ دی ہے۔ ان کی کمائی پہلے ہی کم تھی، اور اب انہیں گیس کے لیے بھی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے، جس سے باہر رہنا مشکل ہو گیا۔
وہیں سہیلا، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، بکسر کا کہنا ہے کہ “اعلیٰ سطح کی ویڈیو کانفرنس کے بعد دوسری ریاستوں سے واپس آنے والے مزدوروں کا ڈیٹا مرتب کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ اس کے تحت لیبر سپرنٹنڈنٹ کو رضاکارانہ طور پر واپس آنے والے مزدوروں کی مکمل جانکاری اکٹھی کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں مدد فراہم کی جا سکے۔”



