8053 دیہاتوں میں سائنسی کھیتی کا مظاہرہ ہوگا: رام کرپال یادو
مٹی کی صحت اور کسانوں کی خوشحالی حکومت کی اولین ترجیح
کم لاگت میں زیادہ پیداوار کیلئےمتوازن کھاد کے استعمال پر زور:وزیر زراعت
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 24 جنوری: بہار کے وزیر زراعت رام کرپال یادو نے کسانوں کی معاشی حالت بہتر بنانے اور زمین کی زرخیزی کو دیرپا بنانے کے لیے ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے کسانوں کے کھیتوں کی مٹی کو صحت مند، زرخیز اور طویل عرصے تک محفوظ رکھنے کے مقصد سے مرکز کے تعاون سے ‘مٹی کی صحت اور زرخیزی کی اسکیم پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح کسانوں کو روایتی طریقوں کے بجائے سائنسی کھیتی سے جوڑنا ہے، تاکہ کم لاگت میں زیادہ پیداوار حاصل ہو اور زمین کی قدرتی طاقت بھی برقرار رہے۔مظاہراتی پروگرام کے ذریعے تربیت وزیر زراعت نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ہر پنچایت کے ایک ریونیو گاؤں میں ‘سوائل ہیلتھ کارڈ ‘ کی بنیاد پر کل 8053 مظاہروںکے انعقاد کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مقررہ ہدف کے مطابق یہ مظاہرے تیزی سے کیے جا رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ کسان عملی طور پر اس اسکیم کے فوائد دیکھ سکیں اور ان سے مستفید ہو سکیں۔سائنسی طریقہ کار اور متوازن کھاد کا استعمال رام کرپال یادو نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت کسانوں کو ان کی زمین کی کیمیائی اور نامیاتی صورتحال کی اصل رپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔
نشاندہی کیے گئے علاقوں میں کسانوں کو سوائل ہیلتھ کارڈ کی سفارشات کے مطابق مٹی کے اصلاح کاروں، مائیکرو نیوٹرینٹس، اور کیمیائی و نامیاتی کھادوں کے متوازن استعمال کی تربیت دی جا رہی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد کسانوں کو یہ سمجھانا ہے کہ کھادوں کا بے جا استعمال نہ صرف زمین کو بنجر بناتا ہے بلکہ کسانوں کے اخراجات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔ سائنسی طریقے سے کھاد کا استعمال فصل کی کوالٹی کو بہتر بناتا ہے اور غیر ضروری اخراجات کو کم کرتا ہے۔پیداوار میں واضح فرق کی عملی مثال وزیر موصوف نے کہا کہ ‘ڈیمونسٹریشن پلاٹ ‘ (جہاں جدید طریقے اپنائے گئے ہیں) اور ‘کنٹرول پلاٹ ‘ (جہاں روایتی طریقہ اپنایا گیا ہے) کے موازنے کے ذریعے کسانوں کو براہ راست دکھایا جا رہا ہے کہ کھادوں کے متوازن استعمال سے فصل کی نشوونما اور پیداوار میں کتنا بڑا فرق آتا ہے۔ اس عملی تجربے سے کسانوں کا اعتماد سائنسی کھیتی کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہ جدید طریقہ کار اپنانے کے لیے خود آگے آ رہے ہیں۔پائیدار زراعت اور ماحولیاتی تحفظ پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیر زراعت نے کہا کہ اس مہم کا ایک بڑا مقصد مٹی کی طویل مدتی زرخیزی کو بچانا اور کیمیکلز کے زیادہ استعمال سے ماحول کو ہونے والے نقصان کو روکنا ہے۔ یہ پائیدار زراعت کی طرف ایک سنگ میل ثابت ہوگی۔
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا وژن رام کرپال یادو نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا وژن ہے کہ ملک کا کسان سائنسی علوم سے لیس، خود کفیل اور معاشی طور پر مضبوط بنے۔ مٹی کی صحت کا کارڈ اور قدرتی کھیتی اسی کڑی کا حصہ ہیں۔ دوسری جانب وزیراعلیٰ نتیش کمار کا عزم ہے کہ بہار کا ہر کسان جدید ٹیکنالوجی اور سرکاری اسکیموں سے فائدہ اٹھا کر خوشحال بنے۔ ریاستی حکومت پنچایت کی سطح تک ان منصوبوں کو پہنچا کر زراعت کو ایک منافع بخش پیشہ بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔مستقبل کے اثرات وزیر زراعت نے اس امید اور یقین کا اظہار کیا کہ اس اسکیم کے مؤثر نفاذ سے ریاست میں مجموعی زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوگا، کسانوں کی آمدنی بڑھے گی اور ریاست کے قدرتی وسائل کا تحفظ بھی یقینی بنایا جا سکے گا۔



