پٹنہ: بہار کے وزیر صحت و قانون اور مغربی بنگال بی جے پی کے انچارج جناب منگل پانڈے نے کہا ہے کہ مغربی بنگال کی سرزمین ہفتہ کے روز ترقی اور تبدیلی کے ایک نئے باب کی گواہ بننے جا رہی ہے۔ ملک کے مقبول وزیراعظم جناب نریندر مودی کے دورہ کولکاتا کو لے کر بی جے پی لیڈروں اور کارکنوں میں زبردست جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم مودی ہمیشہ بنگال کے عوام کے مفاد اور ترقی کے لیے پرعزم رہے ہیں۔جناب پانڈے نے بتایا کہ اس دورے کے دوران وزیراعظم تقریباً 18,680 کروڑ روپے کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح اور سنگ بنیاد رکھیں گے۔ ان منصوبوں میں 420 کلومیٹر سے زیادہ طویل نیشنل ہائی وے پروجیکٹس، جہاز رانی اور بندرگاہوں سے متعلق متعدد اسکیمیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیلدا اور دانتن کے درمیان 16 کلومیٹر طویل تیسری ریل لائن کو قوم کے نام وقف کیا جانا بھی اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس سے خطے میں ریل ٹریفک اور اقتصادی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملے گی۔بی جے پی انچارج نے زور دے کر کہا کہ وزیراعظم مودی کی موجودگی میں منعقد ہونے والی “پریورتن سنکلپ سبھا” مغربی بنگال کی سیاسی تاریخ کی اب تک کی سب سے بڑی عوامی سبھا ثابت ہوگی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس جلسے میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شرکت کریں گے اور یہ پروگرام بنگال میں سیاسی تبدیلی کا مضبوط پیغام دے گا۔ بنگال کے عوام اب تبدیلی چاہتے ہیں اور بی جے پی ترقی، گڈ گورننس اور شفافیت کے ساتھ ریاست کو نئی سمت دینے کے لیے تیار ہے۔جناب پانڈے نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ موجودہ حکومت صرف عوام کو ٹھگنے اور ترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں ڈالنے کا کام کر رہی ہے۔ اس کے باوجود مرکز کی مودی حکومت نے ہمیشہ مغربی بنگال کی ترقی کو ترجیح دی ہے تاکہ عوام کو سڑک، ریل اور بندرگاہ جیسی بہتر بنیادی سہولیات میسر آ سکیں۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ یہ دورہ نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرے گا بلکہ بنگال میں تبدیلی کی بنیاد کو مزید مضبوط کرے گا۔



