وزیر صحت منگل پانڈے نے اعداد و شمار پیش کیے
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ۔ بہار کے وزیر صحت منگل پانڈے نے کہا کہ ریاستی حکومت آنکھوں کی بیماریوں کی روک تھام، جانچ اور علاج کے تئیں مکمل طور پر مستعد ہے۔ محکمہ صحت کی جانب سے عام لوگوں کو جدید ترین سہولیات کے ساتھ بہتر اور معیاری آنکھوں کے علاج کی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جس سے زیادہ سے زیادہ لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ ریاست میں بلاک سطح تک کل 455 صحت کے اداروں میں آنکھوں کے معائنے اور مفت چشموں کی تقسیم کا انتظام یقینی بنایا گیا ہے۔ یکم اپریل 2025 سے فروری 2026 تک 10,81,928لوگوں کی آنکھوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے بصارت کے نقص میں مبتلا 2,73,264مریضوں کو مفت چشمے فراہم کیے گئے۔ معزز وزیر اعلیٰ جناب نتیش کمار کی قیادت میں محکمہ صحت نے ہر شہری تک معیاری طبی خدمات فراہم کی ہیں۔پانڈے نے کہا کہ ریاست کے 26 ضلع اسپتالوں سمیت راجندر نگر میں واقع سپر اسپیشلٹی آئی اسپتال میں موتیا بند کے آپریشن کی سہولت دستیاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 11 مہینوں (اپریل 2025 سے فروری 2026) میں 6 لاکھ 11 ہزار سے زائد موتیا بند کے آپریشن کامیابی کے ساتھ کیے گئے ہیں۔ مالی سال 2025-26 کے لیے مقررہ 5,55,000آپریشنز کے ہدف کے مقابلے فروری 2026 تک 6,11,889آپریشنز کر کے ریاست نے طے شدہ ہدف کو عبور کر لیا ہے۔ بہار میں آنکھوں کی خدمات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آئی اسسٹنٹ کی 220 آسامیوں پر تقرری کا عمل آخری مرحلے میں ہے۔ جلد ہی منتخب امیدواروں کو تقرری نامے دے کر مختلف طبی اداروں میں تعینات کیا جائے گا، جس سے مریضوں کو مزید آسان اور معیاری خدمات میسر آ سکیں گی۔ پانڈے نے کہا کہ عام لوگوں کو آنکھوں کے علاج کی جدید سہولت فراہم کرنے کے مقصد سے راجندر نگر میں واقع سپر اسپیشلٹی آئی اسپتال فعال ہے۔ اس کے علاوہ اندرا گاندھی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (IGIMS) کے احاطے میں ریجنل آئی انسٹی ٹیوٹ کی نئی عمارت بھی کام کر رہی ہے، جہاں جدید ترین سہولیات دستیاب ہیں اور آئی بینک بھی چلایا جا رہا ہے۔ پی پی پی موڈ میں شنکرا آئی فاؤنڈیشن انڈیا کے تعاون سے کنکڑ باغ، پٹنہ میں ایک اور سپر اسپیشلٹی آئی اسپتال کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ اس کی تکمیل پر ریاست کے غریب اور ضرورت مند مریضوں کو اعلیٰ سطح کی آنکھوں کے علاج کی خدمات مزید آسانی سے میسر ہوں گی۔ سابقہ حکومتوں کے مقابلے موجودہ حکومت نے آنکھوں کی صحت کی خدمات کو مستحکم کرنے کی سمت میں نمایاں کام کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں آج ریاست کے سرکاری طبی اداروں میں آنکھوں کے مریضوں کو بہتر اور مفت علاج کی سہولیات فراہم ہو رہی ہیں۔



