امارتِ شرعیہ کے زیرِ اہتمام زمزم میرج ہال سمڈیگا میں ایس آئی آر ٹریننگ میں دور دراز سے لوگوں کی شرکت
سمڈیگا / 7 جنوری :امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کی جانب سے ایس آئی آر (Special Intensive Revision) اور پیرنٹل میپنگ سے متعلق جاری کل جھارکھنڈ تربیتی مہم کے تحت ایک اہم اور مفید ورکشاپ زمزم میرج ہال سمڈیگا میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ وفد کے پہونچتے ہی قاضی شریعت مولانا مختار عالم قاسمی اور مدرسہ اسلامیہ تجوید القرآن سمڈیگا کی انتظامیہ اور اساتذہ نے پرتپاک استقبال کیا۔اس تربیتی ورکشاپ کی صدارت معاون ناظمِ امارتِ شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ قائد وفد مولانا احمد حسین قاسمی نے فرمائی۔
اپنے صدارتی خطاب میں آپ نے فرمایا کہ ہمارے معاشرے میں خواہ وہ مسلمان ہوں، ہندو ہوں یا آدی واسی سماج سے تعلق رکھتے ہوں، بڑی تعداد ایسے غریب اور ناخواندہ افراد کی ہے جن کے لیے پیرنٹل میپنگ اور ایس آئی آر ایک دشوار مرحلہ ہے۔ بحیثیت مسلمان ہمارا دینی اور اخلاقی فریضہ ہے کہ ہم آگے بڑھ کر بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر شہری، مرد و خواتین، کی مدد کریں۔ آپ نے حدیثِ نبوی ﷺ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ “لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔انہوں نے مزید فرمایا کہ آپ حضرات اپنے بچوں کو تعلیم یافتہ بنائیں اور انہیں اچھی تربیت کے ساتھ مختلف انتظامی مناصب تک پہونچانے کی کوشش کریں کہ خدمت خلق کے جذبے کے ساتھ ہر میدان میں جانا وقت کی ضرورت ہے کہ مناصب کا صحیح استعمال ہزاروں روتی ہوئی آنکھوں میں مسرت کی لہر دوڑاسکتی ہے۔اس موقع پر امارتِ شرعیہ کی ریسرچ ٹیم کے رکن ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ نے وقف سے متعلق اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ نے مسلمانوں کے لئے یہ ناپسند فرمایا ہے کہ ان کی غفلت کی وجہ سے ان کا مال ضائع ہو جائے۔ اس لئے ملّی جائداد کے تحفظ کی عملی تدبیریں کریں۔ بعد ازاں امارتِ شرعیہ کی ریسرچ ٹیم کے رکن مفتی اکرام الدین صاحب نے نے گفتگو فرمائی اور فارم بھروائے۔ اس کا مقصد عوامی رابطے میں تسسل کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے بعد مفتی قیام الدین قاسمی نے پروجیکٹر اور پریزنٹیشن کے ذریعے شرکاء کو عملی تربیت دی۔ انہوں نے پیرنٹل میپنگ، فارم 6، فارم 8 اور ایس آئی آر سے متعلق پیچیدہ امور کو نہایت سادہ، عام فہم اور عملی انداز میں سمجھایا، جس سے شرکاء کو براہِ راست فائدہ حاصل ہوا۔شرکاء نے مجلس میں ان کاموں کو پریکٹیکل بھی انجام دیا ۔
ورکشاپ کے دوران مفتی صاحب اور ڈاکٹر صاحب نے مختلف علاقوں کے شرکاء کے حلقے بنا کر ٹیمیں تشکیل دیں، تاکہ ہر علاقہ میں منظم اور منصوبہ بند طریقے سے کام کیا جا سکے اور عملاً ایس آئی آر کے دوران عوام کو درپیش مشکلات کا حل ممکن ہو سکے۔ مفتی قیام صاحب نے شرکاء کے سوالات کے تشفی بخش جوابات دیے اور عملی رہنمائی بھی فراہم کی۔جوانوں کی ایک بڑی تعداد میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ایس آئی آر مکمل ہونے تک ہم لوگ اپنے اپنے علاقوں میں اس ٹریننگ کے ذریعے عام لوگوں کی مدد کو یقینی بنائیں گے جو امارت شرعیہ کے لیے ایک خوش آئند امرہے۔
واضح رہے کہ ورکشاپ کی نظامت قاضیٔ شریعت مولانا محمد مختار عالم قاسمی نے فرمائی اور آغاز مدرسہ تجوید القرآن کے ایک طالب علم کی پُراثر تلاوتِ کلامِ پاک اور نعتِ رسول ﷺ سے ہوا۔اس موقع پر مدرسہ اسلامیہ تجوید القرآن سمڈیگا کے مہتمم مولانا مفتی محمد اسرافیل صاحب قاسمی نے حضرت امیرِ شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب مدظلہم اور ناظم امارت شرعیہ جناب مولاما مفتی محمد سعید الرحمن قاسمی صاحب کے اس بروقت اور عوامی مفاد پر مبنی اقدام کو سراہتے ہوئے اسے جھارکھنڈ کے تمام شہریوں کی ایک اہم ضرورت قرار دیا اور پروگرام کے کامیاب انعقاد پر امارتِ شرعیہ، منتظمین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ جناب قاضیٔ شریعت اور ان کے رفقاء ہی کی محنت، توجہ اور مؤثر حکمتِ عملی کے نتیجے میں شرکاء کی قابلِ ذکر تعداد کی موجودگی درج ہو سکی ۔
ورکشاپ میں شہر کے عمائدین، سماجی کارکنان، دانشوران اور مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان جیسے مولانا ریاض، مولانا توقیر، ماسٹر محمد غیاث الدین، الحاج محمد جاوید اختر، الحاج محمد لقمان، محمد احتشام، محمد تبریز، حافظ محمد شوکت، شہزاد پرنس، محمد نو شاد عالم، محمد ایوب، مولانا منہاج الدین رحمانی بھی شریک رہے۔ ماہر تعلیم ہدایت اللہ صاحب سمڈیگا نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔واضح رہے کہ 9تاریخ کو ضلع پاکوڑ کی پکوڑیا جامع مسجد میںمغرب بعد ٹریننگ منعقد ہوگی ان شاءاللہ۔



