جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 8 مارچ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے فیصلے اور گزشتہ ہفتہ بہار کے گورنر عارف محمد خان سے ملاقات کے بعد ان کے ممکنہ استعفیٰ کی قیاس آرائیاں تیز ہو گئی ہیں۔نتیش کمار نے آج لوک بھون میں گورنر سے ملاقات کی، جہاں دونوں کے درمیان تقریباً 10 منٹ تک بند کمرے میں بات چیت ہوئی۔ اگرچہ سرکاری طور پر اس ملاقات کو ایک خیر سگالی ملاقات (شائستگی ملاقات) بتایا گیا ہے، لیکن ریاست میں حالیہ دنوں میں تیز ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کے درمیان اس نے نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق، یہ ملاقات گورنر عارف محمد خان کی مدت کار ختم ہونے کی وجہ سے ان کی الوداعی سے متعلق شائستگی کے تحت ہوئی۔ اسی دوران مرکزی حکومت نے سابق سینئر فوجی افسر سید عطا حسنین کو بہار کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔ حسنین بھارتی فوج میں لیفٹیننٹ جنرل رہ چکے ہیں اور جلد ہی ان کے عہدہ سنبھالنے کا امکان ہے۔اس ملاقات سے سیاسی حلقوں میں اس بات کی بھی چہ مگوئیاں تیز ہیں کہ کمار حال ہی میں راجیہ سبھا انتخاب کے لیے اپنی نامزدگی داخل کرنے کے بعد جلد ہی وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ اگر نتیش کمار پارلیمنٹ کے ایوان بالا (راجیہ سبھا) جانے کے لیے وزیر اعلیٰ کا عہدہ چھوڑتے ہیں، تو بہار کی سیاست میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ایسی صورت میں ان کے ممکنہ جانشین کے بارے میں بھی بحث شروع ہو گئی ہے۔



