وزیر اعلیٰ خاتون روزگار اسکیم کے ذریعے جیویکا دیدیاں سنبھالیں گی سدھا مراکز:نتیش کمار
مکھیہ منتری
مـہــیلا
روزگـار یوجـنا
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ: بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ریاست کی دیہی معیشت کو ایک نئی جہت عطا کرنے اور مویشی پروروں کی خوشحالی کے لیے ایک انقلابی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ حکومت کے فلیگ شپ پروگرام “سات نشچئے-3” کے تحت “کرشی میں پرگتی – پردیش میں سمردھی” کے وژن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب ریاست کے ہر گاؤں میں دودھ پروڈکشن کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ اس اقدام کا بنیادی مقصد دیہی سطح پر مویشی پالنے والے کسانوں کو منظم کرنا اور انہیں ان کی محنت کا مناسب صلہ دلوانا ہے، تاکہ دودھ کی فروخت کے لیے انہیں کسی بھی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دودھ کی پیداوار میں اضافہ نہ صرف کسانوں کی انفرادی آمدنی بڑھائے گا بلکہ مجموعی طور پر ریاست کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگا۔ریاست کے مجموعی ڈھانچے پر نظر ڈالی جائے تو بہار میں کل 39,073 گاؤں ہیں، جن میں سے 25,593 دیہاتوں میں پہلے ہی دودھ پروڈکشن کمیٹیاں کامیابی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے محکمۂ مویشی و ماہی پروری کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بقیہ تمام دیہاتوں میں آئندہ دو سالوں کے اندر ان کمیٹیوں کے قیام کے عمل کو مکمل کیا جائے۔ اس وسیع نیٹ ورک کے ذریعے حکومت کا ارادہ ہے کہ دودھ کی دستیابی کو ہر علاقے میں یقینی بنایا جائے اور دودھ سے بنی اشیا کی صنعت کو دیہی سطح تک پھیلایا جائے۔ اس منصوبے کے تحت “سات نشچئے-2” کی کامیابیوں کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے اب تمام بلاکس کے بعد تمام 8,053نچایتوں میں بھی سدھا دودھ فروخت مراکز قائم کیے جائیں گے۔ اب تک 100 پنچایتوں میں یہ مراکز فعال ہو چکے ہیں جبکہ بقیہ 7,953 پنچایتوں میں مالی سال 2026-27 کے اختتام تک ان کی تعمیر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔اس پورے منصوبے کا ایک انتہائی اہم اور روشن پہلو خواتین کی خود مختاری اور جیویکا دیدیوں کی شمولیت ہے۔ نتیش کمار نے اعلان کیا ہے کہ پنچایتوں میں قائم کیے جانے والے ان نئے سدھا مراکز کی الاٹمنٹ میں “وزیر اعلیٰ خاتون روزگار اسکیم” کے تحت جیویکا دیدیوں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس سے دیہی علاقوں میں خواتین کے لیے براہ راست روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور ان میں کاروباری صلاحیتیں پروان چڑھیں گی۔ جب خواتین معاشی طور پر مستحکم ہوں گی تو پورے خاندان کی سماجی و اقتصادی حالت میں بہتری آئے گی۔
وزیر اعلیٰ کا ماننا ہے کہ دودھ کی صنعت میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے اور اب انہیں مالکانہ حقوق اور انتظام و انصرام کی ذمہ داریاں سونپ کر حکومت ایک بڑے سماجی انقلاب کی بنیاد رکھ رہی ہے۔نتیش کمار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس منصوبے کی تفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور دیہی علاقوں سے ہجرت کو روکنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ جب ہر پنچایت میں سدھا کے مراکز ہوں گے اور ہر گاؤں میں دودھ جمع کرنے کی کمیٹیاں فعال ہوں گی، تو کسانوں کو اپنی پیداوار فروخت کرنے کے لیے دور دراز شہروں کا رخ نہیں کرنا پڑے گا۔ اس سے نہ صرف وقت اور نقل و حمل کے اخراجات کی بچت ہوگی بلکہ دودھ کے معیار کو برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیر اعلیٰ کے اس جامع وژن سے یہ امید ہو چلی ہے کہ بہار آنے والے چند سالوں میں دودھ کی پیداوار اور اس کی مارکیٹنگ میں ملک کی صفِ اول کی ریاستوں میں شامل ہو جائے گا، جس سے ریاست کے لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں میں خوشحالی اور معاشی استحکام آئے گا۔



