نوکری بچانے کیلئےپاس کرنا ہوگا امتحان؛ پروموشن کیلئے بھی TETکی شرط برقرار : سپریم کورٹ کا فیصلہ
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 30 مئی: سپریم کورٹ نے جھارکھنڈ میں تعینات اساتذہ کو ٹیٹ (ٹیچرس ایلجیبلٹی ٹیسٹ) کا امتحان پاس کرنے کیلئے مزید ایک سال کا وقت دے دیا ہے۔ عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے کے تحت ریاستی حکومت اس اسکول سیشن کے دوران دو بار ٹیٹ امتحانات کا انعقاد کرے گی۔ اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے ٹیٹ پاس کرنے کی لازمی شرط کو چیلنج کرنے والی تمام 65 نظرثانی درخواستوں کو یکسر خارج کر دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کے پرانے حکم میں کوئی خامی نہیں ہے، اس لیے کسی نئے حکم کی ضرورت نہیں۔ عدالت کے اس فیصلے سے اب یہ صاف ہو گیا ہے کہ ریاست کے تمام پرائمری اسکولوں میں مقرر اساتذہ کو اب 31 اگست 2028 تک ٹیٹ امتحان لازمی طور پر پاس کرنا ہوگا، جبکہ پہلے یہ آخری تاریخ 31 اگست 2027 طے تھی۔ عدالت کے نئے حکم کے مطابق جن اساتذہ کی ملازمت کی مدت محض پانچ سال یا اس سے کم بچی ہے، ان کے لیے ٹیٹ کا امتحان پاس کرنا لازمی نہیں ہوگا اور ان کی نوکری محفوظ رہے گی۔ تاہم، اگر ایسے اساتذہ مستقبل میں محکمانہ ترقی حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو انہیں بھی اس شرط کے تحت ٹیٹ امتحان پاس کرنا ہی ہوگا۔ سپریم کورٹ کے اس حتمی فیصلے کے بعد اب جھارکھنڈ کے ہزاروں اساتذہ کو اپنے عہدے پر بنے رہنے کے لیے مقررہ وقت کے اندر امتحان میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی، جس کے لیے محکمہ تعلیم جلد ہی امتحانات کا شیڈول جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596737