راجیہ سبھا انتخاب، کانگریس تنظیم اور زبان کے ضوابط پر کھل کر رکھی اپنی رائے
جدید بھارت نیوز سروس
دھنباد، 30 مئی:۔ جھارکھنڈ کے وزیر خزانہ رادھا کرشن کشور نے سنیچر کے روز دھنباد سرکٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے راجیہ سبھا انتخابات، کانگریس تنظیم اور زبان کے ضوابط جیسے اہم سیاسی امور پر کھل کر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ راجیہ سبھا انتخاب کے لیے کافی ارکان نہ ہونے کے باوجود امیدوار کھڑا کرنے کی تیاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ بی جے پی ارکانِ اسمبلی کی خرید و فروخت اور جوڑ توڑ کے ذریعے الیکشن جیتنا چاہتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ریاست میں مہا گٹھ بندھن کے پاس 56 ارکانِ اسمبلی کی حمایت ہے اور کانگریس راجیہ سبھا کے لیے اپنا امیدوار اتارے گی۔ پارٹی کے اندرونی اختلافات پر وضاحت دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ صوبائی صدر کے ساتھ ان کا کوئی ذاتی تنازع نہیں ہے، بلکہ جمہوری پارٹی میں پالیسیوں اور کام کرنے کے انداز پر نظریاتی اختلافات کا ہونا فطری ہے۔ دوسری طرف، ریاست میں جاری زبان کے تنازع پر انہوں نے کہا کہ یہ کوئی تنازع نہیں بلکہ ایک انتظامی چوک ہے، جسے سدھارنے کے لیے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بنائی ہے جس کی میٹنگ 3 جون کو ہوگی۔ انہوں نے زور دیا کہ بہار کی سرحد سے متصل اضلاع میں بھوجپوری، میتھلی اور انگیکا جیسی زبانیں بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہیں، اس لیے انہیں مناسب احترام ملنا چاہیے اور ایسے علاقوں میں جہاں قبائلی زبانوں کا رواج نہیں ہے، وہاں انہیں زبردستی نافذ کر کے طلبہ کے مستقبل کو متاثر نہیں کیا جانا چاہیے۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4596734