نشیت بنے وزیر اور اُدین گوہا سیاسی منظر سے غائب
کوچ بہار: ایک وقت تھا جب کوچ بہار کی سیاست میں سب سے زیادہ چرچا ترنمول لیڈر اُدین گوہا اور بی جے پی لیڈر نشیت پرمانک کی سیاسی لڑائی کا ہوتا تھا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان سخت مقابلہ، جلسے، الزامات اور طاقت کا مظاہرہ مسلسل خبروں میں رہتا تھا۔ لیکن 2026 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سیاسی تصویر پوری طرح بدل گئی ہے۔ ایک طرف بی جے پی لیڈر نشیت پرمانک نہ صرف بڑی جیت حاصل کرکے ریاستی کابینہ میں وزیر بن گئے، دوسری طرف ترنمول کے سینئر لیڈر اُدین گوہا شکست کے بعد عملی طور پر عوامی منظر سے دور دکھائی دے رہے ہیں۔دنہاٹا اسمبلی حلقہ میں ترنمول کے طاقتور لیڈر اُدین گوہا کو اس بار بی جے پی امیدوار اجے رائے کے ہاتھوں 17 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف نشیت پرمانک نے مٹھ بھنگہ اسمبلی حلقہ سے ترنمول امیدوار سبلو برمن کو 57 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہرا کر زبردست سیاسی واپسی کی۔ بعد میں انہوں نے بریگیڈ میدان میں وزیر کے طور پر حلف بھی لیا۔انتخابی نتائج کے بعد سے اُدین گوہا دنہاٹا میں نظر نہیں آئے۔ ترنمول کارکنوں کے ایک طبقے کا کہنا ہے کہ ان سے رابطہ کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ کئی لوگ فون کرنے کے باوجود ان سے بات نہیں کر پا رہے۔ ضلع ترنمول کے نائب صدر عبدالجلیل احمد نے بھی تسلیم کیا کہ نتائج کے بعد اُدین گوہا دنہاٹا میں موجود نہیں ہیں، حالانکہ وہ کارکنوں سے رابطے میں ہیں۔دوسری طرف نشیت پرمانک مسلسل سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ماضی میں الیکشن ہار چکے ہیں، لیکن کبھی عوام کو چھوڑ کر نہیں گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لیڈر عوام کے ساتھ کھڑے نہیں رہتے، آخرکار انہیں میدان چھوڑنا پڑتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک زمانے میں اُدین گوہا اور نشیت پرمانک ایک ہی سیاسی جماعت میں تھے اور دونوں کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔ لیکن نشیت کے بی جے پی میں شامل ہونے کے بعد دونوں کے تعلقات خراب ہوتے گئے۔ کوچ بہار کی سیاست میں ان دونوں کے درمیان کئی بار شدید سیاسی تصادم، الزامات اور کارکنوں کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے دونوں گروپوں کے حامیوں کے درمیان دنہاٹا میں کھلے عام تصادم ہوا تھا۔ یہاں تک کہ نشیت کے جلوس کے دوران اُدین گوہا کی گاڑی پر حملے کا الزام بھی لگا تھا۔ اس وقت اُدین گوہا ضلع کی سیاست میں انتہائی طاقتور مانے جاتے تھے جبکہ نشیت پرمانک لوک سبھا انتخابات میں شکست کے بعد دباؤ میں تھے۔لیکن چند مہینوں میں حالات پوری طرح بدل گئے۔ اب نشیت پرمانک نہ صرف اسمبلی انتخاب جیت چکے ہیں بلکہ ریاستی حکومت میں وزیر بھی بن گئے ہیں، جبکہ اُدین گوہا شکست کے بعد سیاسی طور پر کمزور دکھائی دے رہے ہیں۔ کوچ بہار کی سیاسی فضا میں اس تبدیلی کو لے کر زبردست بحث جاری ہے اور لوگ اسے شمالی بنگال کی سیاست کا بڑا موڑ قرار دے رہے ہیں۔









Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4594481