تقابلی ادب سے ذہن کا فروغ ہوتا ہے اور تحقیق کے نئے زاویے کھلتے ہیں: ڈاکٹر رضوان علی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی ،30 اپریل :آج بتاریخ 30 اپریل بروز جمعرات یونیورسٹی شعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی کے سیمینار ہال میں،” عہد حاضر میں تقابلی ادب کی اہمیت “ پر گفتگو کی گئی جس میں پٹنہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسور سورج دیو سنگھ بطور مہمان خصوصی کے شریک ہوئے ۔ اس نشست کی صدارت شعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر محمد رضوان علی نے کی۔ ان کے علاوہ اس نشست میں فیکلٹی ممبر ڈاکٹر اعجاز احمد، سابق صدرشعبۂ اردو رانچی یونیورسٹی ڈاکٹر سید ارشد اسلم اورRLSY کالج رانچی کے استاذ ڈاکٹر آغا محمد ظفر حسنین موجود رہے ۔اس نشست میں مہمان خصوصی پروفیسر سورج دیو سنگھ نے اس عنوان پر اپنی گفتگو کو بہتر انداز میں رکھتے ہوئے کہا کہ عہد حاضر میں تقابلی ادب کی سب سے زیادہ ضرورت ہے اوراس کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے، تقابلی ادب تحقیق کو یک طرفہ ہونے سے بچاتا ہے اور تحقیق میں گہرائی اور جدت لاتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نشست میں موجود تمام ریسرچ اسکالرز اور طلبہ و طالبات کی ایک بڑی تعداد کی رہنمائی کرتے ہوئے رسیرچ کے حوالے سے بہت ہی مفید اور کارآمد باتیں بتائیں۔ شعبہ اردو رانچی یونیورسٹی کے موجودہ صدر ڈاکٹر محمد رضوان علی نے بھی جدید تحقیق میں تقابلی ادب پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تقابلی ادب سے ذہن کا فروغ ہوتا ہے اور تحقیق و تنقید کے نئے زاوئے کھلتے ہیں۔ اسی بات پر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر اعجاز احمد نے بھی توجہ دلائی کہ ادب میں تقابلی مطالعہ تحقیق کو ایک نئی جہت عطا کرتا ہے اور تحقیقی نظریے کو وسعت فراہم کرتا ہے۔اس نشست میں ڈاکٹر آغا محمد ظفر حسنین نے بھی تقابلی ادب کی ضرورت کے حوالے سے اپنی باتیں رکھیں ۔ اس نشست کے اختتام میں سوال و جواب کا ایک خوبصورت دور بھی چلا جس میں ریسرچ اسکالرز نے اپنی تحقیق کے تعلق سے مہمان خصوصی اور دیگر اساتذہ سےاہم سوالات کیے جن کا تسلی بخش جواب مہمان خصوصی اور اساتذہ کی طرف سے دیا گیا۔










Users Today : 2266
Users Yesterday : 3172
Users Last 7 days : 18128
Users Last 30 days : 54385
Users This Month : 81577
Users This Year : 997059
Total Users : 4593567