ہومJharkhandانجمن تحریک اردو کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

انجمن تحریک اردو کے زیر اہتمام تعزیتی نشست کا انعقاد

ڈاکٹر احمد سجاد اردو علم و ادب کا ایک روشن باب تھے۔ اے علام

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی30 اپریل(راست) دنیائے اردو کے معتبر اور معزز استاذ، علمی و ادبی رہنما اور دینی و ملی رہبر ڈاکٹر پروفیسر احمد سجاد کے انتقال پر ملال پر انجمن تحریک اردو جھارکھنڈ کی جانب سے مورخہ 29 اپریل بروز بدھ کو تعزیتی نشست کا انعقاد مقامی انجمن پلازہ مسافر خانہ ہال رانچی میں بعد نماز عصر تا مغرب کیا گیا۔ پروگرام کی صدارت جھارکھنڈ ہایء کورٹ کے سنیئر ایڈوکیٹ جناب اے علام اور نظامت انجمن ھذا کے نائب صدر جناب سہیل سعید نے فرمائی۔ جناب اے علام نے اپنے صدارتی خطبے میں کہا کہ میری بنیادی تعلیم عربی اردو اور فارسی کی ضرور رہی ہے لیکن چونکہ میرا عملی میدان شعبہ قانون کے حوالے سے رہا ہے، لیکن بنیادی تعلیم کا ہی یہ اثر ہے کہ مادری زبان اردو کے تعلق سے کسی بھی پروگرام میں شرکت کرنے کی بھرپور کوشش رہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے بڑے بھائی پروفیسر ابوالکلام قاسمی اردو شعر و ادب کی ایک بڑی شخصیت تھی ان کے تعلقات ڈاکٹر احمد سجاد سے بڑے پرانے اور گہرے رہے ہیں، وہ جب بھی رانچی آتے تو دونوں کی ملاقاتیں ضرور ہوا کرتی تھیں، اور چونکہ میں خود ایک عرصے سے شہر رانچی میں رہتا ہوں اس لیے ڈاکٹر احمد سجاد کی علمی ادبی اور ملی خدمات سے بہت حد تک واقف ہوں ۔ آج ان کے نہ ہونے کا شدید احساس ہو رہا ہے۔ اللہ تعالی ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
صدر انجمن ڈاکٹر وکیل احمد رضوی نے کہا کہ مرحوم بڑے مخلص اور مشفق استاذ اور انسان تھے ۔ان کا انفرادی اور مخصوص انداز لوگوں کو ان سے بہت قریب کر دیا کرتا تھا ۔وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے بلکہ کئی انجمنوں اور اداروں کے بانی اور سرپرست تھے جن کی سرپرستی انہوں نے آخری ایام تک فرمائی ۔کسی بھی کام کو ترتیب وار ،منصوبہ بند اور منظم انداز میں کرنا اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ان کی شخصیت کا خاص اور نمایاں وصف تھا ۔ وہ ایک اچھے مقرر، بہترین مصنف اور باکمال منتظم تھے۔ تصنیف و تالیف کا یہ حال تھا کہ وہ 33 سال کی جواں عمری میں 1972 سے لے کر گزشتہ 2020۔ 21 تک متواتر لکھتے پڑھتے رہے ۔ پھر بیماری اور نقاہت نے انہیں بستر پر ڈال دیا۔ مرحوم تعمیری ادب کے بنیاد گزاروں میں سے تھے۔ رانچی یونیورسٹی کے صدر شعبۂ اردو اور ڈین فیکلٹی آف ہیومینٹیز کی حیثیت سے انہوں نے نمایاں کارکردگی انجام دیا۔ مرکز ادب و سائنس، کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ اور فروغ اردو کونسل سے وابستہ ہو کر بہترین خدمات کا مظاہرہ کیا ۔ان کی دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور چند زیر طباعت بھی ہیں ۔انجمن کے نائب صدر جناب جمیل اصغر نے ان سے اپنی گہری وابستگی کے ساتھ ساتھ زمانہ طالب علمی سے ہی ان کے مشفقانہ کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے گہرے رنج و غم کے ساتھ ان کے لیے دعائیہ کلمات کہے ۔انجمن کے جنرل سیکرٹری جناب اقبال احمد نے بھی مرحوم کے تعلیم و تعلم کے حوالے سے مخلصانہ اور مشفقانہ حسن سلوک کا تفصیلی ذکر کیا اور کہا کہ ان کے نہ ہونے سے علم و ادب کے میدان میں ایک زبردست خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اس سلسلے میں سچی عقیدت یہ ہوگی کہ ہم ان کے کاموں کو مزید آگے بڑھائیں اور انہوں نے علم ادب کے میدان میں جو شمع روشن کی ہے اس کی حفاظت کریں۔
انجنیئر عزیر حمزہ پوری صدر حلقہء ادب جھارکھنڈ (انجمن تحریک اردو ) نے بھی ان کی علمی و ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ آج اس غم و حزن کے ماحول میں ہمیں اس بات کی خوشی کا بھی احساس ہو رہا ہے کہ حلقۂ ادب کے زیر اہتمام ان کی زندگی میں ہی 30 اپریل 2023 کو پریس کلب آف رانچی میں ایک شاندار سیمینار کے انعقاد کیا گیا تھا جس میں مرحوم خود بہ نفس نفیس موجود تھے اور جس میں شہر کے عمائدین علم ادب نے ان کی خدمات پر اپنے بھرپور تاثرات کا اظہار کیا تھا اور ان کی بڑی ستائش بھی کی تھی۔حلقہء ادب انشاءاللہ آئندہ بھی سیمینار کا انعقاد کرے گا اور ان کی شخصیت پر حلقۂ ادب جھارکھنڈ کے زیرِ انتظام شایع ہونے والے ششماہی رسالہ ‘اساس تہذیب، میں ایک خصوصی گوشہ شائع کرنے کی کوشش کرے گا ۔
اس موقع پر سید اعجاز احمد نے بھی اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے اپنے والد مرحوم مولانا جمیل اختر سے ان کی گہری وابستگی کا ذکر کیا اور اپنے تخلیق کردہ چند تاثراتی اشعار پڑھے ۔ ان کے علاوہ مرحوم کی خدمات پر اپنے تاثرات بیان کرنے اور خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں جوائنٹ سکریٹری جناب مہتاب عالم کے علاوہ جناب سبحان اختر، قاضی حافظ ابو الکلام ، محمد معین الدین، شیخ محمد عمر ایڈووکیٹ، جناب نہال سریاوی ، شکیل احمد ،فضل جاوید اور فاروق اعظم کے علاوہ خواتین شرکا میں شمیمہ خاتون، وحیدہ خاتون نسرین پروین، ثنا پروین شگفتہ پروین، مسکان پروین اور راحت جہاں وغیرہ کے نام شامل ہیں ۔ چند حضرات نے نشست کے دوران اپنے تعزیتی کلمات ارسال کئے ان میں غوث ابن رشید، ڈاکٹر جمال احمد رکن جے پی ایس سی ،ڈاکٹر قیوم انصاری ،ڈاکٹر ریاض احمد خان اور طبیب احسن تابش کے نام شامل ہیں۔ پروگرام کا آغاز حافظ ابو الکلام کی تلاوت کلام پاک سے ہوا آخر میں انہوں نے ہی دعائے مغفرت بھی فرمائی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات