’ابوا آواس یوجنا‘ فنڈ کی کمی کے باعث سست روی کا شکار، ہزاروں مکانات ادھورے
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 22 اپریل:۔ ریاست کی انتہائی اہمیت کی حامل ‘ابوا آواس یوجنا ‘ مالیاتی بحران کے سبب سست پڑ گئی ہے۔ دیہی ترقیاتی محکمہ نے مالی سال 25-2024 کے دوران ایک ہزار کروڑ روپے کی مانگ کی تھی، جس کی منظوری تو مل گئی لیکن محکمہ کو صرف 300 کروڑ روپے ہی جاری کیے گئے۔ فنڈز کی اس شدید کمی کی وجہ سے مکانات کی تعمیر کی رفتار پر منفی اثر پڑا ہے اور ریاست بھر میں ہزاروں مستحقین اگلی قسط کے انتظار میں پریشان ہیں۔
بروقت ادائیگی نہ ہونے سے تعمیراتی کام ٹھپ
رقم کی عدم فراہمی کے باعث مستحقین کو وقت پر قسطیں جاری نہیں کی جا رہی ہیں۔ ریاست کے مختلف اضلاع میں مکانات کی تعمیر ادھوری پڑی ہے۔ کہیں صرف بنیادیں رکھ کر کام روک دیا گیا ہے تو کہیں دیواریں کھڑی ہونے کے بعد چھت ڈالنے کے لیے پیسے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ دیہی علاقوں میں اس صورتحال کی وجہ سے اسکیم کی پیشرفت تقریباً تھم سی گئی ہے اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
محکمہ کی جانب سے ایک ہزار کروڑ کی نئی مانگ
ذرائع کے مطابق دیہی ترقیاتی محکمہ ادھورے پڑے تعمیراتی کاموں کو مکمل کرنے کے لیے ایک بار پھر محکمہ خزانہ سے ایک ہزار کروڑ روپے جاری کرنے کا مطالبہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ محکمہ کے کئی اعلیٰ افسران فی الوقت انتخابی ڈیوٹی کے سلسلے میں دیگر ریاستوں میں تعینات ہیں۔ ان کی واپسی کے فوراً بعد اس تجویز کو حتمی شکل دے کر حکومت کو بھیجا جائے گا تاکہ رکی ہوئی رقم حاصل کی جا سکے۔
منظور شدہ مکانات اور تکمیل کے اعداد و شمار
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو اسکیم کی سست روی واضح طور پر نظر آتی ہے۔ مالی سال 24-2023 میں محکمہ نے 2 لاکھ ابوا آواس منظور کیے تھے، لیکن فنڈز کی تاخیر کی وجہ سے اب تک صرف 1,32,416 مکانات ہی مکمل ہو سکے ہیں۔ اسی طرح مالی سال 25-2024 میں 4,33,392 مکانات کی منظوری دی گئی تھی، جن میں سے اب تک محض 77,947 مکانات ہی مکمل کیے جا سکے ہیں۔ باقی ماندہ لاکھوں مکانات اب بھی مختلف مراحل میں ادھورے پڑے ہیں۔
قسطوں کے اجراء کا طریقہ کار
واضح رہے کہ ابوا آواس یوجنا کے تحت مستحقین کو کل رقم چار قسطوں میں ادا کی جاتی ہے۔ پہلی قسط مکان کی منظوری کے فوراً بعد دی جاتی ہے۔ دوسری قسط بنیاد (Plinth) کی تعمیر مکمل ہونے پر، تیسری قسط دیواروں اور چھت کی سطح تک کام پہنچنے پر، جبکہ چوتھی اور آخری قسط مکان کی مکمل تیاری کے بعد جاری کی جاتی ہے۔ فی الوقت دوسری اور تیسری قسط کی ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تر کام رکا ہوا ہے۔



