پڑھے لکھے طبقے کے شکار ہونے پر سپریم کورٹ کو بھی حیرت
مشتبہ بینک کھاتوں کی شناخت کیلئے آر بی آئی کو اے آئی کے استعمال کی ہدایت
نئی دہلی، 20 اپریل:۔ (ایجنسی) سپریم کورٹ نے ملک بھر میں ‘ڈیجیٹل گرفتاریوں ‘ کے ذریعے بڑھتے ہوئے سائبر فراڈ کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت نے سماعت کے دوران ریمارکس دیے کہ یہ انتہائی حیران کن ہے کہ معاشرے کے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد بھی اس قسم کے دھوکہ دہی کا شکار بن رہے ہیں۔ عدالت نے اس اسکینڈل کو عدالتی نظام پر عوامی اعتماد کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سی بی آئی کو ان معاملات کی گہرائی سے تحقیقات کرنے اور متعلقہ بینکروں سے پوچھ گچھ کرنے کی مکمل آزادی دے دی ہے۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی نے عدالت کو بتایا کہ اس حساس معاملے پر مختلف محکموں کے درمیان میٹنگز جاری ہیں اور جلد ہی حتمی حکمت عملی وضع کر لی جائے گی۔ سپریم کورٹ نے ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کو ہدایت دی کہ وہ مشتبہ بینک کھاتوں کی فوری شناخت اور انہیں منجمد کرنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) اور مشین لرننگ کے استعمال پر غور کرے۔ عدالت نے یہ ازخود نوٹس انبالہ کے ایک بزرگ جوڑے کی شکایت پر لیا تھا، جنہیں جعلی عدالتی احکامات دکھا کر ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم سے محروم کر دیا گیا تھا۔ کیس کی اگلی سماعت 12 مئی کو مقرر کی گئی ہے۔



