چناسوامی اسٹیڈیم میں سنسنی خیز مقابلے کیلئے ہونگے آمنے سامنے
بنگلورو، 14 اپریل (یو این آئی) ایم چناسوامی اسٹیڈیم، جہاں چھوٹی باؤنڈریز اور بیٹنگ کے موافق حالات اکثر گیند بازوں کو بے بس کر دیتے ہیں، ایک بار پھر آئی پی ایل کی سنسنی خیز شام کے لیے تیار ہے۔ اس بار لکھنؤ سپر جائنٹس، میزبان رائل چیلنجرز بنگلورو کو چیلنج دینے کے لیے تیار ہے، جن کی فارم ایک مربوط اور مؤثر یونٹ کی طرح حریفوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔اسے محض ‘بیٹنگ کی اچھی فارم‘ کہنا غلطی ہوگی۔ یہ کچھ ایسا ہے جیسے طوفانی رفتار کو محض تیز چہل قدمی کہا جائے۔ اس گراؤنڈ پر آر سی بی نے رنز بنانے کو معمول بنا دیا ہے، جو حریف ٹیموں پر نفسیاتی برتری قائم کر دیتا ہے، اور اب 200 رنز کا ہدف کوئی خاص کارنامہ نہیں بلکہ ایک عام سی حد بن چکا ہے۔ابتدا میں بیٹنگ انتہائی ترتیب اور نظم کے ساتھ شروع ہوتی ہے، گویا کوئی نظام وقت کی پابندی سے چل رہا ہو، لیکن جلد ہی یہ ایک طوفانی رخ اختیار کر لیتی ہے جسے قابو میں رکھنا بالرز کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔اس سیزن میں آر سی بی کے بیٹنگ یونٹ کی قیادت وراٹ کوہلی کر رہے ہیں، جنہوں نے چار میچوں میں 179 رنز بنا کر ٹاپ آرڈر پر اپنی روایتی دھاک بٹھا رکھی ہے۔ ان کے ساتھ فل سالٹ نے دھواں دھار آغاز فراہم کیا ہے، جس میں پچھلے میچ میں 36 گیندوں پر 78 رنز کی جارحانہ اننگز بھی شامل ہے۔دیودت پڈیکل بھی بہترین فارم میں ہیں، انہوں نے تین میچوں میں 200 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ دو فلوئنٹ ففٹیز کی مدد سے 125 رنز بنائے ہیں، جو انہیں پاور پلے اور مڈل اوورز میں ایک خطرناک بلے باز بناتا ہے۔مڈل آرڈر میں رجت پاٹیدار نمایاں کارکردگی کے ساتھ سامنے آئے ہیں، جنہوں نے 210 سے زائد کے شاندار اسٹرائیک ریٹ سے تقریباً 195 رنز اسکور کیے۔ مڈل اوورز میں ان کی برتری نے کئی مواقع پر میچ کا رخ رائل چیلنجرز بنگلورو کے حق میں موڑ دیا۔ اس کے بعد ٹم ڈیوڈ نے اپنی زبردست فنشنگ سے اثر ڈالا، جو اس سیزن میں 12 چھکوں اور 220 سے زائد کے اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ کھیل رہے ہیں، جبکہ روماریو شیفرڈ نے 175 کے قریب اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ آخری اوورز میں ٹیم کو رفتار دی۔حتیٰ کہ وکٹ کیپر جتیش شرما نے بھی مختصر مگر مؤثر اننگز کھیل کر رنز کی رفتار کو برقرار رکھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ اپنے ہوم گراؤنڈ پر رائل چیلنجرز بنگلورو واقعی ایک رنز بنانے والی مشین بن چکی ہے۔بالنگ میں جیکب ڈفی اور بھونیشور کمار نے پاور پلے میں اہم وکٹیں لے کر مضبوط آغاز فراہم کیا، جبکہ مڈل اوورز میں کرونال پانڈیا نے کنٹرول سنبھالا اور سُیَش شرما نے اہم مواقع پر وکٹیں حاصل کر کے ٹیم کو برتری دلائی، یوں بڑے اسکور کا دفاع بھی مؤثر انداز میں ممکن ہوا۔رائل چیلنجرز بنگلورو جیسی مضبوط ٹیم کے سامنے لکھنؤ سپر جائنٹس کو اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنا ہوگا، کیونکہ یہ ٹیم باصلاحیت ہونے کے باوجود اب تک تسلسل حاصل نہیں کر سکی۔ بعض اوقات بیٹنگ، بالنگ اور فیلڈنگ تینوں شعبوں میں ہم آہنگی دکھائی دیتی ہے، مگر زیادہ تر مواقع پر یہ توازن برقرار نہیں رہ پاتا ہے۔ایل ایس جی کے بیٹنگ لائن اپ میں بڑے نام تو شامل ہیں لیکن ان کی کارکردگی میں تسلسل کی کمی ہے۔ ایڈن مارکرم 152 کے اسٹرائیک ریٹ سے چار میچوں میں 108 رنز بنا کر سب سے قابلِ اعتماد کھلاڑی ثابت ہوئے ہیں، جنہوں نے ٹاپ آرڈر پر استحکام فراہم کیا۔ تاہم، نکولس پورن اس سیزن میں جدوجہد کرتے نظر آئے ہیں، انہوں نے چار میچوں میں محض 41 رنز بنائے ہیں اور ان کا اسٹرائیک ریٹ بھی 85 کے قریب رہا، جو ان کے روایتی جارحانہ انداز سے بالکل برعکس ہے۔ رشبھ پنت نے محض چند جھلکیاں دکھائی ہیں۔
، جن میں ایس آر ایچ کے خلاف ناٹ آؤٹ 68 رنز شامل ہیں، لیکن اس کے علاوہ وہ اچھی شروعات کو بڑے اسکور میں بدلنے میں ناکام رہے۔مچل مارش بھی کم اسکور کرنے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں اور ٹاپ آرڈر پر اپنی تال تلاش نہیں کر پا رہے ہیں۔ آیوش بدونی اور عبدالصمد بھی مستقل پرفارم کرنے میں ناکام رہے، جس کی وجہ سے مڈل آرڈر اکثر دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ تاہم، مکل چوہدری نے کے کے آر کے خلاف 27 گیندوں پر 54 رنز کی زبردست اننگز کھیلی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موقع ملنے پر ایل ایس جی کے پاس میچ جتانے والے کھلاڑی موجود ہیں۔بالنگ میں محمد شامی سب سے نمایاں رہے ہیں، جنہوں نے 6.25 کے متاثر کن اکانومی ریٹ سے وکٹیں حاصل کر کے نظم و ضبط اور کنٹرول برقرار رکھا۔ پرنس یادو چار میچوں میں چھ وکٹیں لے کر موثر رہے ہیں، جبکہ اویش خان اور دگویش سنگھ راٹھی نے مڈل اوورز میں اہم کامیابیاں دلا کر ان کا ساتھ دیا ہے۔انفرادی کوششوں کے باوجود ایل ایس جی اب بھی ایک ایسی ٹیم ہے جو اجتماعی تال کی تلاش میں ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو اس میچ کو دلچسپ بناتا ہے، ایک طرف ایک طاقتور اور منظم بیٹنگ لائن اپ ہے جو بڑی آسانی سے رنز کے ڈھیر لگا رہی ہے، اور دوسری طرف ایک باصلاحیت مگر غیر متوازن ٹیم ہے جو مشکل حالات میں استحکام پانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا لکھنؤ سپر جائنٹس دباؤ میں خود کو سنبھال سکے گی، یا چناسوامی کا طوفان ایک بار پھر اپنے رنگ میں میچ کا فیصلہ کرے گا؟
ٹیمیں:
رائل چیلنجرز بنگلورو: رجت پاٹیدار (کپتان)، ٹم ڈیوڈ، وراٹ کوہلی، دیودت پڈیکل، جیکب بیتھل، کرونال پانڈیا، وینکٹیش ایر، وہان ملہوترا، روماریو شیفرڈ، منگیش یادو، کنشک چوہان، ساتوک دیسوال، فلپ سالٹ، جتیش شرما، جارڈن کاکس، ابھینندن سنگھ، جوش ہیزل ووڈ، راسخ سلام ڈار، بھونیشور کمار، سُویش شرما، سوپنیل سنگھ، نووان تشارہ، جیکب ڈفی، وکی اوستوال۔
لکھنؤ سپر جائنٹس: ہمت سنگھ، ایڈن مارکرم، اکشت رگھوونشی، عبدالصمد، آیوش بدونی، ارشین کلکرنی، مچل مارش، جارج لنڈے، شہباز احمد، ارجن تندولکر، رشبھ پنت، میتھیو بریٹزکے، نکولس پورن، مکل چوہدری، جوش انگلس، آکاش مہاراج سنگھ، اویش خان، محمد شامی، پرنس یادو، محسن خان، دگویش سنگھ راٹھی، منی مارن سدھارتھ، مینک یادو، اینرچ نورکیا، نمن تیواری۔



