نفرت نہیں، محبت کی سیاست چلے گی: وزیر اعلی ممتابنرجی
کولکاتہ: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 سے قبل سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ‘بلڈوزر’ والے بیان پر وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کر دیا کہ بنگال میں بلڈوزر کی نہیں بلکہ محبت اور بھائی چارے کی سیاست ہوگی۔اتوار کو بی جے پی کی انتخابی مہم کے تحت مغربی بنگال میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں ایک بار پھر’بلڈوز‘ کا ذکر کیا اور شرپسندوں و مخالفین کو سخت پیغام دیا۔ بی جے پی نے 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے چار ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو اسٹار پرچارک بنایا ہے، جن میں یوگی آدتیہ ناتھ سب سے نمایاں چہرہ ہیں۔پیر کے روز انتخابی مہم کے دوران ممتا بنرجی نے یوگی کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا،”ہم بلڈوزر پالیسی پر یقین نہیں رکھتے، ہم محبت، بھائی چارے اور انسانیت کی سیاست کرتے ہیں۔ بنگال کی سرزمین نفرت اور خوف کی سیاست کو قبول نہیں کرتی۔”ممتا بنرجی نے مزید کہا کہ بی جے پی بنگال میں باہر کے لیڈروں کو لا کر ریاست کی سیاست کو خوف اور دھمکی کے ماحول میں تبدیل کرنا چاہتی ہے، مگر یہاں کے لوگ محبت، ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کو ترجیح دیتے ہیں۔ترنمول کانگریس مسلسل بی جے پی کے مرکزی اور بیرونی لیڈروں کو ڈیلی پیسنجرقرار دے رہی ہے—یعنی ایسے رہنما جو صرف انتخابات کے وقت بنگال آتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ ممتا نے اسی تناظر میں طنز کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ صرف ووٹ کے موسم میں بنگال آتے ہیں، وہ بنگال کی روح اور مزاج کو نہیں سمجھ سکتے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان صرف یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف ردعمل نہیں بلکہ بنگال میں بی جے پی کے پورے انتخابی بیانیے کے خلاف ترنمول کا نظریاتی جواب ہے۔ ایک طرف بی جے پی سخت قانون، قوم پرستی اور جارحانہ حکمرانی کا ماڈل پیش کر رہی ہے، تو دوسری طرف ممتا بنرجی خود کو نرم مزاج، عوام دوست اور بنگالی شناخت کے محافظ کے طور پر پیش کر رہی ہیں۔جیسے جیسے انتخابات قریب آ رہے ہیں، بی جے پی اور ترنمول کے درمیان نظریاتی اور سیاسی جنگ مزید تیز ہوتی جا رہی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بنگال کے ووٹر بلڈوزر سیاست کو ترجیح دیتے ہیں یا محبت کی سیاست کے نعرے کو۔



