این ڈی اے نے بہار کو ملک کی غریب ترین ریاست بنا دیا:تیجسوی پرساد یادو
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 13 اپریل: راشٹریہ جنتا دل کے قومی ایگزیکٹو صدر اور قائد حزب اختلاف تیجسوی پرساد یادو نے پارٹی کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایک بڑی تنظیمی تبدیلی کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب ‘چھاتر راشٹریہ جنتا دل ‘ کا نام بدل کر ‘سوشلسٹ اسٹوڈنٹ ایسوسی ایشن آف انڈیا ‘ رکھ دیا گیا ہے اور پرانی تنظیم کو فوری طور پر تحلیل کر دیا گیا ہے۔ تیجسوی یادو کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات اور لنگدوہ کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے تاکہ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے حقوق، مساوات اور انہیں بااختیار بنانے کے لیے ایک منظم جدوجہد کی جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ نئی تنظیم ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں طلبہ کے مسائل پر متحرک رہے گی اور آر جے ڈی کے اسٹوڈنٹ ونگ کے طور پر اپنی فعال شناخت بنائے گی۔ریاست کی سیاسی صورتحال پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار میں وزیر اعلیٰ کی کرسی کا فیصلہ محض دو افراد کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی نیا وزیر اعلیٰ بنے گا، اسے عوام کی حقیقی حمایت حاصل نہیں ہوگی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ این ڈی اے نے جس لیڈر کے نام پر انتخابات لڑے تھے، اب انہیں ہی اقتدار سے باہر کا راستہ دکھایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نتیش کمار نے اپنے اقتدار کے آخری دور میں بہار کا خزانہ مکمل طور پر خالی کر دیا ہے اور گزشتہ بیس برسوں میں این ڈی اے کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے بہار تعلیم، صحت اور صنعت کے شعبوں میں بری طرح پچھڑ کر ملک کی غریب ترین ریاست بن چکا ہے۔تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ حکومت عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف اقتدار بچانے کے کھیل میں لگی ہوئی ہے جبکہ ریاست میں جرائم، بدعنوانی اور لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب بی جے پی کے ایک ذیلی ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے اور یہ سب کچھ محض ذاتی مفادات اور قانونی کارروائیوں سے بچنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے معاشی بدحالی کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ حکومت کے پاس ارکان اسمبلی کو تنخواہیں دینے تک کے پیسے نہیں ہیں اور ترقیاتی کاموں سے وابستہ لوگوں کی ادائیگیاں روک دی گئی ہیں۔ جب انہوں نے اس حوالے سے سوال اٹھایا تو حکام نے صرف ان کے اکاؤنٹ میں پیسے منتقل کر دیے، جبکہ ان کا مطالبہ ریاست کے تمام ملازمین اور عوام کے لیے تھا۔تیجسوی یادو نے پارٹی کارکنوں اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ نئی تنظیم کے بینر تلے متحد ہو جائیں کیونکہ موجودہ حکومت نوجوانوں کے روزگار اور مستقبل سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ آر جے ڈی اب سڑکوں سے لے کر ایوان تک عوام کی اس لوٹ کھسوٹ اور معاشی بدحالی کے خلاف تحریک مزید تیز کرے گی تاکہ بہار کو موجودہ سیاسی و معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہار کے عوام اب تبدیلی کے منتظر ہیں اور وہ جلد ہی اس مفاد پرست سیاست کا بھرپور جواب دیں گے۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ حکومت میں بیٹھے لوگوں کو عوام کی تکلیف سے کوئی سروکار نہیں ہے اور وہ صرف اپنی سیاسی بساط بچھانے میں مصروف ہیں۔



