مخالفین میری مقبولیت سے خوفزدہ، جھوٹے حلف ناموں سے میری آواز نہیں دبائی جا سکتی: ممتا بنرجی
عوام کا بھروسہ ہی میری سب سے بڑی طاقت ہے:وزیر اعلی
جدید بھارت نیوز سروس
کیشیاری :مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی نے ہفتہ کے روز کیشیاری میں ایک بڑے عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور الیکشن کمیشن پر الزام لگایا کہ انہیں انتخابی میدان سے باہر کرنے کے لیے ایک منظم سیاسی سازش رچی گئی تھی۔ ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ بھوانی پور اسمبلی حلقے سے ان کے کاغذاتِ نامزدگی منسوخ کرانے کی پوری کوشش کی گئی تاکہ وہ الیکشن نہ لڑ سکیں اور ان کی سیاسی شبیہ کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ محض سیاسی مخالفت نہیں بلکہ جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی ایک خطرناک کوشش تھی۔ممتا بنرجی کے مطابق بعض غدار عناصر نے ان کے خلاف دو جھوٹے حلف نامے داخل کیے تھے، جن کا مقصد ان کی نامزدگی کو قانونی پیچیدگی میں پھنسا کر رد کرانا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مخالفین نے منصوبہ بند انداز میں انہیں بدنام کرنے، ان کی ساکھ خراب کرنے اور عوام کے سامنے غلط تصویر پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ مخالفین کو یہ اندازہ ہو چکا ہے کہ عوام آج بھی ان کے ساتھ ہیں، اسی لیے انہیں غیر جمہوری طریقوں سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ترنمول سربراہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کی لڑائی صرف بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ ان تمام اداروں کے خلاف بھی ہے جو ان کے مطابق حکمراں جماعت کے دباؤ یا اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ کچھ آئینی ادارے اپنی غیر جانبداری کھو چکے ہیں اور سیاسی مفادات کے تحت فیصلے لے رہے ہیں، جو ملک کی جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ممتا نے کہا کہ جب آئینی ادارے آزاد نہ رہیں تو جمہوری نظام کمزور ہو جاتا ہے اور عوام کا اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے۔اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر ایک منتخب وزیر اعلیٰ کو بھی اس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو عام شہریوں کے ساتھ کیا کچھ ہو سکتا ہے، اس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو بچانے کے لیے ہر شہری کو ہوشیار اور متحد رہنا ہوگا، کیونکہ یہ صرف ایک پارٹی کی نہیں بلکہ پورے نظام کی لڑائی ہے۔ممتا بنرجی کے اس بیان کے بعد مغربی بنگال کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل ممتا کا یہ بیان انتخابی ماحول کو مزید گرم کر سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں اس معاملے پر سیاسی کشیدگی بڑھنے کا امکان ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اس بیان پر ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے جبکہ ترنمول کانگریس اسے جمہوریت کے دفاع کی آواز قرار دے رہی ہے۔



