اسرائیل اور لبنان 14 اپریل کو واشنگٹن میں پہلی براہ راست بات چیت کریں گے
اسلام آباد، 11 اپریل (یو این آئی) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ مذاکرات کے لیے نیت نیک ہے لیکن امریکہ پر اعتماد نہیں۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اسلام آباد آمد کے موقع پر ایرانی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اچھی امید اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے آیا ہے، تاہم ماضی کے تجربات کی بنا پر امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ماضی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے دوران مسلسل وعدہ خلافیاں سامنے آئی ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک سال سے بھی کم عرصے میں دو مرتبہ مذاکرات کے عمل کے دوران ایران پر حملے کیے گئے اور بے شمار جنگی جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔ ایرانی اسپیکر کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کسی حقیقی معاہدے کے لیے سنجیدہ ہے اور ایرانی قوم کے حقوق کو تسلیم کرتا ہے، تو ایران بھی مکمل آمادگی کا مظاہرہ کرے گا۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن مذاکرات کو محض ایک نمائشی عمل یا دھوکہ دہی کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے، تو ایرانی عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔محمد باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور ملکی خودمختاری کے دفاع کے لیے مکمل طور پر پرعزم ہے اور کسی بھی جارحیت کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان پہلی براہِ راست بات چیت 14 اپریل کو واشنگٹن میں ہوگی۔ یہ اطلاع اسرائیلی میڈیا نے ہفتہ کو دی۔ٹائمز آف اسرائیل نے کہاکہ “اسرائیل اور لبنان کے درمیان متوقع پہلی براہِ راست بات چیت منگل کو واشنگٹن میں ہوگی۔”واشنگٹن میں لبنانی سفیر نادا حمادہ، واشنگٹن میں اسرائیلی سفیر یچئیل لیٹر اور بیروت میں امریکی سفیر مشیل عیسیٰ کے درمیان جمعہ کو فون پر گفتگو ہوئی، جو اسرائیلی اور لبنانی سفیروں کے درمیان پہلی گفتگو تھی۔اسرائیلی وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو نے اس ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ اسرائیل جلد از جلد لبنان کے ساتھ براہِ راست بات چیت کرے گا۔اسی سے متعلق ایک اور پیش رفت میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف کی قیادت میں ایک وفد جمعہ کی رات اسلام آباد پہنچا تاکہ امریکہ کے ساتھ ہونے والی امن بات چیت سے قبل تیاری کرے۔ امریکی وفد پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔اسلام آباد پہنچنے کے بعد مسٹر قالیباف نے کہا کہ ایران کو امریکہ پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے، تاہم بات چیت کے لیے نیک نیتی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکہ حقیقی معاہدہ کرے اور ایران کو اس کے حقوق دے تو ایران معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ایران نے پہلے کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت کی شرائط میں لبنان میں جنگ بندی بھی شامل ہے۔ تاہم امریکہ اور اسرائیل نے لبنان کو جنگ بندی کی شرائط میں شامل کرنے سے انکار کیا ہے۔ایرانی وفد میں سینئر سیاسی، فوجی اور اقتصادی حکام، دفاعی کونسل کے سیکریٹری اور ایرانی پارلیمنٹ کے کئی اراکین شامل ہیں۔ ادھر امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکا اورلبنان نے اسرائیل سے حزب اللہ پر حملوں میں وقفہ کرنےکی درخواست کی ہے۔دوسری جانب لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے ایک بیان میں کہا کہ دشمن نے مذاکرات کے لیے ایران کی شرائط رسوائی کے ساتھ قبول کرلیں۔ اس حوالے سے امریکہ میں اسرائیلی سفیر نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل منگل کو لبنان اور امریکا کے سفیروں کے ساتھ میٹنگ پر رضامندہے لیکن اسرائیل نےحزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی پربات چیت سےانکار کیا ہے۔یاد رہے اس سے قبل ایران جنگ بندی سے متعلق امریکا اور اسرائیل نے کہا تھا لبنان ایران جنگ بندی معاہدے کا حصہ نہیں ہے اور وہ ایران کی پہلی 10 نکاتی تجویز کو بھی مسترد کرچکے ہیں جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ لبنان کو جنگ بندی معاہدے میں شامل کیاگیا ہے۔



