ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں
ویانا، 10 اپریل (یو این آئی) عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان جاری ہے، جس کے باعث برینٹ اور امریکی خام تیل دونوں کی قیمتیں نئی سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 96.29 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 0.30 فیصد اضافے کے بعد 98.16 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔ معاشی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ حالات کی خرابی کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی معطل ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی مارکیٹ میں سپلائی کا بحران پیدا ہونے کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب عالمی معاشی صورتحال کے تناظر میں آج ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں کاروبار کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ ہوا ہے، جہاں زیادہ تر بڑے انڈیکسز سبز نشان کے ساتھ ٹریڈ کر رہے ہیں۔ ٹوکیو کے نکئی انڈیکس میں آج 0.7 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 0.6 فیصد کی بہتری دیکھی گئی۔چینی مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان رہا جہاں شنگھائی کمپوزٹ انڈیکس اور ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس، دونوں میں 0.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال نظر آیا، جہاں ممبئی اسٹاک ایکسچینج کا سینسیکس انڈیکس 0.8 فیصد جبکہ نیفٹی ففٹی انڈیکس 0.5 فیصد اضافے کے ساتھ اوپر ٹریڈ کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایشیائی مارکیٹوں میں یہ مثبت تبدیلی عالمی سرمایہ کاروں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔
ایران امریکہ اور اسرائل کے درمیان 15 روزہ جنگ بندی کے بعد آبنائے ہرمز کھل چکی ہے تاہم ایران نے جنگ بندی معاہدے میں ایک دن میں گزرنے والے جہازوں کی حد مقرر کردی ہے غیر ملکی میڈیا کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں دے گا رپورٹ کے مطابق سینئر ایرانی ذرائع نے کہا کہ ایران ایک دن میں 15 سے زیادہ جہازوں کو آبنائے ہرمز سے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت گزرنے کی اجازت نہیں دے گا جس پر اس نے امریکہ کے ساتھ اتفاق کیا تھا۔ پاکستان کی درخواست پر ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی عارضی جنگ بندی میں یہ نکتہ بھی شامل ہے کہ ایران آبنائے ہُرمز کو بحری جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھول دے گا۔آبنائے ہُرمز دنیا میں توانائی کے شعبے کے لیے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایران اور عمان کے درمیان صرف 34 کلومیٹر (21 میل) پانی کی چوڑی پٹی ہے، جو خلیج عرب کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب (بحرِہند) ملاتی ہے۔امن کے زمانے میں اس بحری راستے سے روزانہ قریباً دو کروڑ بیرل تیل گزرتا ہے جو عالمی کھپت کا قریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ خاص طور پر قطر سے بڑی مقدار میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) بھی اس آبنائے کے ذریعے ہی ایشیائی منڈیوں کو بھیجی جاتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جنگ 28 فروری کو شروع ہوئی۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جس کے بعد عالمی سطح پر توانائی بحران پیدا ہوا اور خام تیل کی قیمتیں بڑھیں۔



