سڑک پر سلنڈر کی ڈیلیوری نظر آئی تو براہِ راست ہوگی کارروائی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،9؍اپریل: ریاست میں ایل پی جی گیس کی فراہمی کے حوالے سے پیدا ہونے والی صورتحال پر وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے تمام گیس ایجنسیوں کی سرزنش کی اور واضح ہدایت دی کہ ہر حال میں زیر التوا ڈیلیوری (بیک لاگ) کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر رانچی، جمشید پور اور دھنباد جیسے بڑے اضلاع میں اتنی بڑی تعداد میں بیک لاگ کیوں ہے، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔وزیر نے کہا کہ 7 سے 10 دنوں کے اندر پوری ریاست میں گیس کی فراہمی کی صورتحال کو معمول پر لایا جائے اور تمام زیر التوا آرڈرز کو نمٹایا جائے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ لاپرواہی یا ڈھیل برتنے والی ایجنسیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیر نے اپنی ہدایت میں واضح کیا کہ رانچی، جمشید پور اور دھنباد جیسے اضلاع میں جہاں سب سے زیادہ بیک لاگ ہے، وہاں ترجیحی بنیادوں پر زیر التوا ڈیلیوری کو فوری طور پر کلیئر کیا جائے۔ ساتھ ہی ایل پی جی کی دستیابی، طلب اور زیر التوا ڈیلیوری کا مسلسل جائزہ لیا جائے تاکہ سپلائی چین ہموار رہے۔ انہوں نے یہ بھی یقینی بنانے کو کہا کہ مذہبی رسومات اور شادی بیاہ جیسے اہم مواقع پر گیس کی کوئی قلت نہ ہو۔انہوں نے سخت وارننگ دی کہ اگر کہیں بھی سڑک پر غیر قانونی یا بے قاعدہ طریقے سے سلنڈر کی ڈیلیوری پائی گئی تو متعلقہ ایجنسیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ گیس کی کالا بازاری یا غیر ضروری اسٹاک کرنے والوں پر بھی سخت کارروائی کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزیر نے دہرایا کہ 7 سے 10 دنوں کے اندر پوری ریاست میں گیس کی قلت مکمل طور پر ختم کر دی جائے گی۔وزیر نے واضح کیا کہ ریاست میں گیس سلنڈر کی کوئی کمی نہیں ہے، کافی اسٹاک دستیاب ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خوفزدہ (پینک) نہ ہوں، ہر ایک کو وقت پر گھر کی دہلیز (ڈور سٹیپ) پر ڈیلیوری یقینی بنائی جائے گی اور کسی کو بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ مانیٹرنگ سسٹم کو مزید مضبوط کیا جائے اور ہر ضلع میں باقاعدگی سے جائزہ لے کر صورتحال پر کڑی نظر رکھی جائے، تاکہ عام لوگوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔”ریاست میں گیس کی قلت کسی بھی حال میں برداشت نہیں کی جائے گی ، ہر گھر تک وقت پر سلنڈر پہنچانا ہماری ترجیح ہے۔”



