چین کو عالمی رہنما بنانے کی حکمت عملی پر سوالات
بیجنگ۔8؍ اپریل۔ ایم این این۔ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ یونانی اور لاطینی علوم کو فروغ دے کر چین کو ان شعبوں میں عالمی رہنما بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق اس اقدام کے پیچھے واضح سیاسی اور نظریاتی مقاصد کارفرما ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، چین میں حالیہ برسوں میں کلاسیکی مغربی علوم—خصوصاً افلاطون اور قدیم یونانی و رومی فلسفے—کی تعلیم اور تحقیق کو غیر معمولی سرکاری سرپرستی حاصل ہوئی ہے، جبکہ مغربی ممالک میں ان مضامین کی اہمیت کم ہوتی جا رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق، 2024 میں بیجنگ کے قریب “ورلڈ کانفرنس آف کلاسکس” کا انعقاد کیا گیا، جسے ماہرین نے اس بات کی علامت قرار دیا کہ چین اس میدان میں عالمی قیادت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تقریب میں اعلیٰ سطحی حکومتی نمائندوں کی شرکت نے اس کے سیاسی پہلو کو مزید نمایاں کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ قدیم مغربی تہذیب—یونان اور روم—کو جدید مغربی سیاسی نظام سے الگ کر کے پیش کیا جائے۔ اس تصور کے تحت قدیم فلسفے کو ایک ثقافتی اثاثہ کے طور پر اپنایا جا رہا ہے، جبکہ جدید جمہوری اقدار کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق، چینی کمیونسٹ پارٹی کلاسیکی فلسفے کے ان پہلوؤں کو اجاگر کر رہی ہے جنہیں “غیر جمہوری” یا ریاستی اختیار کے حامی سمجھا جاتا ہے، تاکہ انہیں موجودہ سیاسی بیانیے کے حق میں استعمال کیا جا سکے۔ مزید برآں، اس پالیسی کو چین کی سافٹ پاور حکمت عملی کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت یورپ، خصوصاً یونان کے ساتھ ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جہاں ایک جانب چین خود کو مغربی کلاسیکی علوم کا “محافظ” کے طور پر پیش کر رہا ہے، وہیں دوسری جانب اس عمل میں نظریاتی ترجیحات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے، جس سے اس علمی پیش رفت کے سیاسی پہلو نمایاں ہو جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر تعلیم، ثقافت اور نظریات کے میدان میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، اور چین ان شعبوں میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔



