اقلیتوں اور متوا برادری کے نام چُن چُن کر ووٹر لسٹ سے ہٹائے جا رہے ہیں
جدید بھارت نیوز سروس
ندیا: مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس سربراہ ممتا بنرجی نے ووٹر لسٹ سے ناموں کے اخراج کے معاملے پر ایک بار پھر الیکشن کمیشن اور مخالف سیاسی قوتوں پر شدید حملہ بولتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں متوا، راج بنشی اور اقلیتی برادریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نادیہ ضلع کے چکدہ میں ایک بڑی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ممتا نے کہا کہ خصوصی نظرِ ثانی کے نام پر لاکھوں ووٹروں کو ان کے جمہوری حق سے محروم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، اور سب سے زیادہ ضرب انہی طبقات پر پڑی ہے جو پہلے ہی سماجی اور سیاسی طور پر حساس سمجھے جاتے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کیوں مرشد آباد، مالدہ، شمالی دیناج پور جیسے اقلیتی اکثریتی اضلاع میں اتنی بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام خارج کیے گئے؟ ممتا نے الزام لگایا کہ ووٹر لسٹ سے نام اس طرح نکالے جا رہے ہیں جیسے کسی مخصوص طبقے کو جان بوجھ کر الگ کیا جا رہا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس ایسے ہر شخص کے ساتھ کھڑی ہے جس کا نام غلط طریقے سے حذف ہوا ہے، اور پارٹی قانونی، سیاسی اور عوامی ہر سطح پر اس لڑائی کو لڑے گی۔ ممتا نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ میں ان کی مداخلت کے بعد زیر التوا لاکھوں معاملات میں سے بڑی تعداد میں نام بحال ہوئے، لیکن اب بھی بے شمار حقیقی ووٹر انصاف کے منتظر ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر خواتین، غریب طبقے اور ان لوگوں کی حالت پر تشویش ظاہر کی جن کے نام شادی، رہائش کی تبدیلی یا کاغذی پیچیدگیوں کی وجہ سے فہرست سے غائب ہو گئے۔ وزیراعلیٰ نے واضح الفاظ میں کہا کہ کسی بھی اصل ووٹر کو اس کے حقِ رائے دہی سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا، اور اگر ضرورت پڑی تو ٹریبونل اور عدالتوں سے رجوع کیا جائے گا۔ ممتا بنرجی نے اس موقع پر متوا برادری کے حقوق کے تحفظ کا بھی دو ٹوک اعلان کیا اور خبردار کیا کہ سماجی تقسیم اور خاندانی دراڑ ڈال کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی ہر کوشش ناکام بنائی جائے گی۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ کچھ قوتیں جان بوجھ کر بنگال کے سماجی تانے بانے اور انتخابی توازن کو بگاڑنے میں لگی ہوئی ہیں، لیکن عوام سب کچھ سمجھ رہی ہے۔ خیرماری اسٹیڈیم میں منعقدہ اس جلسے میں ممتا نے صاف پیغام دیا کہ ووٹر لسٹ میں کسی بھی مبینہ بے ضابطگی، امتیاز یا چُن چُن کر نام کاٹنےکی سیاست کے خلاف ترنمول کانگریس آخری حد تک لڑے گی، کیونکہ یہ صرف ناموں کا مسئلہ نہیں بلکہ جمہوریت، شناخت اور حقِ رائے دہی کے تحفظ کی لڑائی ہے۔



