ہومNationalقومی انسانی حقوق کمیشن کے 10 سربراہان اور 17 سیکرٹری جنرلز میں...

قومی انسانی حقوق کمیشن کے 10 سربراہان اور 17 سیکرٹری جنرلز میں کوئی مسلمان نہیں

1993 سے اب تک NHRC اور ریاستی کمیشنز میں مسلم افسران کی انتہائی محدود موجودگی؛ رپورٹ میں انکشاف

نئی دہلی، 6 اپریل:۔ (ایجنسی) ہندوستان میں انسانی حقوق کے اداروں، خصوصاً نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن (NHRC) اور ریاستی کمیشنز میں مسلم نمائندگی نہایت کم ہونے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اعلیٰ عہدوں پر مسلمانوں کی موجودگی انتہائی محدود ہے، جس پر ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکنان نے گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ اقلیتی نمائندگی کے اس فقدان نے ملک میں انسانی حقوق کی صورتحال پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

اعداد و شمار کی تفصیلات
دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 1993 میں قیام کے بعد سے NHRC کے تقریباً 20 اراکین میں سے صرف ایک مسلمان رہا ہے، جبکہ ادارے کے نوڈل افسران میں کسی مسلمان کی موجودگی نہیں پائی گئی۔ اسی طرح ریاستی سطح پر بھی صورتحال تشویشناک ہے، جہاں اسٹیٹ ہیومن رائٹس کمیشن کے 21 چیئرپرسنز میں سے کوئی بھی مسلمان نہیں رہا، اور مجموعی طور پر 180 اعلیٰ عہدیداروں میں صرف 4 مسلمان شامل ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر تشویش
یہ مسئلہ اس وقت مزید نمایاں ہوا جب یونائیٹڈ نیشنز ہیومن رائٹس کمیٹی نے جولائی 2024 میں اپنی رپورٹ میں ہندوستان کے انسانی حقوق ریکارڈ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ رپورٹ کے مطابق مذہبی اقلیتیں، بشمول مسلمان، عیسائی اور سکھ، امتیازی سلوک اور تشدد کا سامنا کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے خلاف بھی زیادتیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔
قوانین پر سوالات
کمیٹی نے بعض متنازع قوانین جیسے UAPA اور قومی سلامتی قانون کے استعمال پر بھی سوال اٹھائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان قوانین کے تحت طویل مدت تک بغیر مقدمہ حراست بین الاقوامی انسانی حقوق معیارات سے متصادم ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ (AFSPA) کے اطلاق پر بھی خدشات ظاہر کیے گئے، خاص طور پر منی پور، جموں و کشمیر اور آسام جیسے علاقوں میں۔
ادارے کا کردار اور حدود
واضح رہے کہ NHRC کو 1993 میں ایک خود مختار ادارے کے طور پر قائم کیا گیا تھا، جس کا مقصد انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور متاثرین کو انصاف فراہم کرنا ہے۔ یہ ادارہ شکایات کی تحقیقات، جیلوں کے دورے اور حکومت کو سفارشات دینے کا اختیار رکھتا ہے، تاہم اس کی سفارشات قانونی طور پر لازمی نہیں ہوتیں۔
کارکردگی کے اعداد و شمار
اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2023 سے نومبر 2024 کے درمیان NHRC نے 65,973 مقدمات درج کیے اور 66,378 مقدمات نمٹائے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ادارہ فعال طور پر کام کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ نمائندگی میں عدم توازن اس کی ساکھ اور اثر پذیری کو متاثر کر سکتا ہے۔
تحقیقی کتاب کے انکشافات
محمد عبد المنان کی ایک کتاب میں بھی اس عدم نمائندگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ تحقیق کے مطابق NHRC کے چیئرپرسن، سیکریٹری جنرل اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر مسلمانوں کی شمولیت نہ ہونے کے برابر رہی ہے، جس نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ آیا انسانی حقوق کے ادارے واقعی تمام طبقات کی نمائندگی کر رہے ہیں یا نہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات