حکمراں اتحاد میں دراڑ کی خبروں کے درمیان رانچی میں تیجسوی کا پاور شو
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،5؍اپریل : ریاست میں برسرِ اقتدار جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) اور کانگریس کے درمیان جاری سرد جنگ نے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کر دی ہے۔ اسی دوران راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی کارگزار صدر تیجسوی یادو کا دورہ کئی حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا ہے۔حکمراں اتحاد کے اندر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اشاروں کے درمیان، تیجسوی کے اس دورے کو محض رسمی نہیں بلکہ ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تیجسوی یادو نے جھارکھنڈ پہنچ کر نہ صرف زمینی حالات کا جائزہ لیا، بلکہ ایک تیر سے کئی نشانے بھی سادھے۔ کنونشن کے ذریعے انہوں نے اپنی سیاسی طاقت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ اتحاد میں آر جے ڈی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ بیان اس پس منظر میں اہمیت کا حامل ہے جب ریاست میں اتحاد کے اندرونی کھینچ تان کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ تیجسوی نے اپنے بیان میں یہ اشارہ بھی دیا کہ آئندہ انتخابات میں آر جے ڈی زیادہ نشستوں پر دعویٰ پیش کر سکتی ہے۔ سال 2024 کے اسمبلی انتخابات میں مفاہمت کے تحت آر جے ڈی کو چھ نشستیں ملی تھیں، جن میں سے پارٹی نے چار پر جیت درج کی تھی۔ اس کارکردگی کو بنیاد بنا کر اب پارٹی اپنے سیاسی قد کے مطابق حصہ داری چاہتی ہے۔ ان کا یہ رخ آنے والے انتخابی مساوات کو متاثر کر سکتا ہے۔
آر جے ڈی کو توڑنے یا کمزور کرنے کی سازشوں کا جواب
تیجسوی یادو نے پارٹی کو کمزور کرنے یا توڑنے کی کوششوں کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے نام لیے بغیر مخالف قوتوں پر الزام لگایا کہ وہ اتحاد کی یکجہتی کو کمزور کرنا چاہتی ہیں۔ اس بیان کو جھارکھنڈ کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایک واضح وارننگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان کا یہ دورہ صرف بیان بازی تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس سے پارٹی کے اراکینِ اسمبلی اور مقامی لیڈروں کو بھی واضح پیغام ملا۔انہوں نے تنظیم کو مضبوط کرنے، کارکنوں کو متحرک رکھنے اور سیاسی طور پر بیدار رہنے پر زور دیا۔ یہ اشارہ بھی دیا گیا کہ آنے والے وقت میں آر جے ڈی جھارکھنڈ کی سیاست میں مزید جارحانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔ تیجسوی یادو کا یہ دورہ جھارکھنڈ کے سیاسی منظر نامے میں نئی مساواتوں کی دستک دے رہا ہے۔ جہاں ایک طرف اتحاد کے اندر توازن برقرار رکھنے کا چیلنج ہے، وہیں دوسری طرف اتحادی جماعتوں کے درمیان طاقت دکھانے کی دوڑ بھی تیز ہوتی نظر آ رہی ہے۔ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آنے والے دنوں میں یہ سیاسی اشارے کس سمت بڑھتے ہیں اور اتحاد کی وحدت پر اس کا کیا اثر پڑتا ہے؟



