فیس، کتابوں اور یونیفارم کے حوالے سے ایس ڈی او کی بڑی کارروائی
کتابوں کی فہرست ویب سائٹ پر ڈالنا لازمی، کسی مخصوص دکان سے خریداری کی شرط بھی ختم
جدید بھارت نیوز سروس
چترا، 04؍ اپریل: نجی اسکولوں میں برسوں سے جاری من مانی، والدین کی بڑھتی ہوئی شکایات اور فیس و کتابوں کی شفافیت کے فقدان پر لگام کسنے کے لیے صدر ایس ڈی او کم ڈی ڈبلیو او محمد ظہور عالم نے ہفتہ کو ایک اعلیٰ سطحی اور انتہائی فیصلہ کن میٹنگ منعقد کی۔ میٹنگ میں ایس ڈی پی او سندیپ سمن، ڈی ای او دنیش مشرا، ڈی ایس ای رام جی کمار اور سب ڈویژنل علاقے کے تمام نجی اسکولوں کے پرنسپل موجود تھے۔ میٹنگ کے دوران واضح کر دیا گیا کہ اب نجی اسکولوں کی کسی بھی قسم کی من مانی— کتابوں کی خریداری، فیس میں اضافہ، یونیفارم کی تبدیلی، ری ایڈمیشن چارجز، داخلہ کا طریقہ کار کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔
کتابوں کے نام پر والدین کو لوٹنا بند کریں، اسکول ISBN پر مبنی فہرست ویب سائٹ پر شائع کرنا لازمی
ایس ڈی او نے کہا کہ کئی اسکول کتابوں میں غیر ضروری تبدیلیاں کر کے والدین پر معاشی بوجھ ڈالتے ہیں۔ اس پر فوری اثر سے روک لگانے کی ہدایت دی گئی۔
انتظامیہ کے اہم احکامات:
کتابیں کسی ایک دکان کے لیے پابند نہیں ہوں گی؛ ہر بک اسٹال پر دستیاب کرانا لازمی ہے۔ہر اسکول اپنے نوٹس بورڈ اور ویب سائٹ پر کلاس وار کتابوں کی فہرست مع ISBN نمبر، پبلیکیشن کی تفصیلات اور ممکنہ قیمت لازمی طور پر دستیاب کرائے۔ صرف NCERT/ISBN اور NEP-2020 پر مبنی کتابیں ہی بنیادی طور پر اپنائی جائیں۔ اضافی کتابوں کے استعمال سے پہلے کمیٹی کو اطلاع دینا لازمی ہوگا۔ پرانی کتابوں کے لیے بک ڈونیشن کیمپ ہر اسکول میں مہینے میں کم از کم ایک بار منعقد کرنا ہوگا۔ ایس ڈی او نے کہاکہ “کتابیں صرف ایک دکان پر دستیاب کروانا غیر قانونی ہے۔ کسی بھی طرح کا دباؤ یا کمیشن پر مبنی نظام پائے جانے پر فوری کارروائی ہوگی۔” فیس میں اضافے پر زیرو ٹولرنس فیس کمیٹی کی اجازت کے بغیر ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں۔نجی اسکولوں میں غیر منظم اور من مانی فیس اضافے کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے سخت رخ اختیار کیا ہے۔
اہم ہدایات:
اسکول فیس کمیٹی کی میٹنگ باقاعدگی سے ہوگی اور اس میں والدین کی موجودگی لازمی ہوگی۔ کمیٹی کی تحریری منظوری کے بغیر ایک روپے کا فیس اضافہ بھی غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔ کوئی بھی اسکول ری ایڈمیشن چارج نہیں لے گا۔ فیس کا ڈھانچہ، ادائیگی کے قواعد، سالانہ فیس وغیرہ کی تفصیلی معلومات اسکول کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنا لازمی ہے۔ فیس کے تنازعات کی جانچ کے لیے سب ڈویژنل سطح کی مانیٹرنگ کمیٹی فوری طور پر تشکیل دی جائے گی، جس کی صدارت ڈی ایس ای اور ڈی ای او کریں گے۔ ایس ڈی او نے انتباہی لہجے میں کہاکہ “فیس میں اضافہ اب من مرضی سے نہیں بلکہ قوانین کے مطابق ہوگا۔ شکایت ملنے پر متعلقہ اسکول کے خلاف سخت کارروائی طے ہے۔”
غیر قانونی یونیفارم کی تبدیلی پر روک: یونیفارم کے نام پر معاشی بوجھ نہیں ڈال سکیں گے اسکول
کئی اسکول ہر سال اسکول یونیفارم میں تبدیلی کرتے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ بڑھتا ہے۔ انتظامیہ نے اس پر بھی مکمل روک لگانے کا حکم جاری کیا۔
ہدایت:یونیفارم میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تبدیلی مکمل طور پر ممنوع ہے۔ اگر کسی تبدیلی کی حقیقی ضرورت ہو، تو اس کی اجازت کمیٹی سے پیشگی منظوری کے بعد ہی لی جا سکے گی۔
RTE ایکٹ 2009 کی تعمیل لازمی 25 فیصد نشستیں BPL خاندانوں کے بچوں کے لیے مختص
ایس ڈی او نے تمام اسکولوں کو واضح ہدایت دی:
“ہر نجی اسکول کو BPL خاندانوں کے کم از کم 25 فیصد بچوں کا مفت داخلہ کرنا ہی ہوگا۔ اس میں کسی بھی قسم کی بہانہ بازی یا خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔” اس عمل کی رپورٹ ہر اسکول کو وقت پر انتظامیہ کو دینی ہوگی۔
داخلہ کی بے ضابطگیوں کو روکنے کے لیے ایڈمیشن کنٹرول روم کا قیام فون پر ہوگی شکایت کی سماعت
والدین کو سہولت فراہم کرنے کے لیے سب ڈویژنل سطح پر ایڈمیشن کنٹرول روم قائم کیا جا رہا ہے۔
یہاں درج ذیل شکایات درج ہوں گی:
کتابوں کی بے ضابطگی، فیس میں اضافہ، یونیفارم کی تبدیلی، نشستوں کی الاٹمنٹ اور داخلہ سے متعلق پریشانیاں۔
کنٹرول روم سے موصول ہونے والی شکایات پر متعلقہ افسران اسی دن کارروائی یقینی بنائیں گے۔
تمام بی ڈی اوز کو باقاعدہ معائنے کا حکم خلاف ورزی پر اسکولوں پر کارروائی طے
ایس ڈی او نے ہدایت دی کہ تمام بی ڈی اوز اپنے اپنے علاقوں کے نجی اسکولوں کا مسلسل معائنہ کریں اور یقینی بنائیں کہ کتابیں، فیس، یونیفارم، داخلہ اور RTE معیارات کی پیروی صحیح ڈھنگ سے ہو رہی ہو۔ ایس ڈی او نے واضح طور پر کہاکہ “افسران کے ذریعے معائنہ کیا جائے گا۔ کسی بھی لاپرواہی پر متعلقہ اسکول کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انتظامیہ اب کسی بھی قسم کی من مانی برداشت نہیں کرے گی۔”



