یادگاری تقریبات کے دوران سیکیورٹی سخت
دھرم شالا۔3؍ اپریل۔ ایم این این۔ چین نے تبتی بدھ مت کے رہنما تُلکو ہنگکار دورجے رنپوچے کی یاد میں ہونے والی تقریبات کے دوران لونگنگن خانقاہ کے گرد سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے متعدد پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق، 27 سے 30 مارچ کے درمیان ہونے والی مذہبی رسومات کے دوران چینی پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری نے خانقاہ کو گھیرے میں لے لیا اور مقامی افراد اور راہبوں کی نقل و حرکت کو سختی سے محدود کر دیا۔ ذرائع کے مطابق، حکام نے خانقاہ میں ہونے والی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی رکھی اور راہبوں و مقامی افراد کو ہدایت دی کہ وہ تقریبات سے متعلق تصاویر یا ویڈیوز سوشل میڈیا یا کسی بھی پلیٹ فارم پر شیئر نہ کریں۔ مزید برآں، تقریب کے آغاز پر یادگاری بینرز اور انگریزی زبان میں لکھی گئی مذہبی تحریروں کو بھی ہٹانے کے احکامات جاری کیے گئے، جسے مقامی سطح پر مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ایک راہب کو بغیر کسی وضاحت کے حراست میں لیا گیا اور بعد ازاں مبینہ طور پر بدسلوکی کے بعد رہا کیا گیا، تاہم اسے دوبارہ حکام کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باعث علاقے میں خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے، جبکہ ماہرین اسے تبت میں مذہبی سرگرمیوں اور شناخت پر بڑھتے ہوئے کنٹرول کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ تُلکو ہنگکار دورجے رنپوچے ایک معروف تبتی مذہبی رہنما تھے، جن کی وفات کے بعد ان کی یاد میں منعقد ہونے والی تقریبات کو سخت نگرانی میں رکھا گیا، جو چین کی جانب سے تبت میں مذہبی امور پر سخت پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔



