رندھیر ورما چوک پر ستیہ گرہ ؛ ایس او پی نافذ کرنے کا پرزور مطالبہ
جدید بھارت نیوز سروس
دھنباد،2؍اپریل: بی سی سی ایل میں متوفی ملازمین کے لواحقین کو ملازمت فراہم کرنے کے لیے بنائے گئے ایس او پی (SOP) پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف جنتا مزدور سنگھ (بچہ گروپ) کی تحریک تیز ہوگئی ہے۔ جمعرات کو دھنباد کے رندھیر ورما چوک پر یونین نے اجتماعی روزہ، ستیہ گرہ اور دھرنا شروع کیا۔ یونین نے وارننگ دی ہے کہ اگر جلد ایس او پی نافذ نہ کی گئی تو بی سی سی ایل کی تمام کولیریوں میں پہیہ جام کر دیا جائے گا۔یونین کے جنرل سکریٹری ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ کول انڈیا کی بورڈ میٹنگز میں محنت کشوں کے مفاد میں پالیسیاں تو بنائی جاتی ہیں لیکن ان پر عمل نہیں ہوتا۔ سال 2023 میں یہ انتظام کیا گیا تھا کہ متوفی ملازمین کے لواحقین کو 86 دنوں کے اندر ایس او پی کے تحت ملازمت دی جائے گی، لیکن 2026 تک ایک بھی معاملے میں اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ بی سی سی ایل میں اس وقت تقریباً 1400 سے 1500 ملازمتوں کے معاملات زیر التوا ہیں۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ تقرری کے عمل میں بدعنوانی اور رشوت خوری کی وجہ سے مستحق افراد کو ان کا حق نہیں مل پا رہا ہے۔ابھیشیک سنگھ نے کہا کہ آؤٹ سورسنگ کے نام پر کوئلے کی چوری ہو رہی ہے جس سے کمپنی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے واضح وارننگ دی کہ اگر جلد ایس او پی نافذ نہ کی گئی تو تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا اور بی سی سی ایل کی تمام کولیریوں میں پہیہ جام کیا جائے گا۔دھرنے کی جگہ پر موجود دیگر مقررین نے بھی بی سی سی ایل انتظامیہ کے طریقہ کار پر سوالات اٹھائے اور حکومت سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جب تک لواحقین کو انصاف نہیں ملتا، ان کی تحریک جاری رہے گی۔ وہیں متاثرہ متوفی ملازمین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ وہ ہمدردی کی بنیاد پر ملازمت کے مطالبے کو لے کر مسلسل بی سی سی ایل کے دفتر کے چکر لگا رہے ہیں، لیکن کوئی جواب نہیں دیا جا رہا ہے۔



