بلاس پور، یکم اپریل:۔ (ایجنسی) چھتیس گڑھ ہائی کورٹ نے ایک اہم حکم نامے میں کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنی نجی رہائش گاہ میں پرامن طریقے سے عبادت کرنے کیلئے پہلے سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس نریش کمار چندرونشی کی سنگل بنچ نے سنایا، جس میں پولیس کی جانب سے جاری نوٹس کو منسوخ کرتے ہوئے درخواست گزاروں کو غیر ضروری طور پر ہراساں نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔ درخواست گزاروں نے آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت پولیس تھانہ نوواگڑھ کی جانب سے جاری نوٹس کو چیلنج کیا تھا اور 7 دسمبر 2025ء کے حکم کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ اپنے مذہبی حقوق کے تحفظ کی اپیل کی تھی۔ وکیل کے مطابق درخواست گزار گودھن گاؤں میں اپنے ذاتی مکانات کے مالک ہیں اور 2016ء سے پہلی منزل پر بنائے گئے ہال میں عیسائی برادری کیلئے عبادتی اجتماعات منعقد کرتے آ رہے ہیں، جہاں کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی یا بدنظمی نہیں ہوئی۔ ریاست کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کے خلاف کچھ فوجداری مقدمات درج ہیں اور انہوں نے دعائیہ اجتماع کیلئے پیشگی اجازت نہیں لی تھی، اسی لیے پولیس نے نوٹس جاری کیے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد واضح کیا کہ نجی رہائش گاہ میں عبادت پر کوئی قانونی پابندی نہیں ہے۔ البتہ اگر ایسے اجتماعات کے دوران شور شرابہ، قانون و نظم کی خلاف ورزی یا کوئی اور مسئلہ پیدا ہو تو متعلقہ حکام قانون کے مطابق کارروائی کر سکتے ہیں، لیکن محض عبادت کی بنیاد پر مداخلت درست نہیں۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ درخواست گزاروں کے شہری حقوق میں مداخلت نہ کرے اور نہ ہی تفتیش کے نام پر انہیں پریشان کرے۔ ساتھ ہی 18 اکتوبر 2025ء، 22 نومبر 2025ء اور یکم فروری 2026ء کو جاری تمام نوٹسز کو بھی منسوخ کر دیا گیا۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اسی طرح کا ایک فیصلہ الہ آباد ہائی کورٹ سے بھی آچکا ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے 2 فروری کو اسی طرح کا ایک فیصلہ سناتے ہوئے واضح تھا کہ کسی بھی فرد یا برادری کو اپنے نجی احاطے میں مذہبی اجتماعات منعقد کرنے کیلئے ریاستی حکومت یا انتظامیہ سے پیشگی اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔



