لکھنؤ، 31 مارچ (یو این آئی) اتر پردیش کی حکومت نے ایل پی جی اور پیٹرولیم مصنوعات کی کالابازاری کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے 12 مارچ سے اب تک ریاست بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے ہیں۔سرکاری بیان کے مطابق اس دوران 17,581 چھاپے اور معائنے کیے گئے جبکہ 17 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ چیف سکریٹری کی ہدایت پر تمام اضلاع میں انتظامیہ الرٹ موڈ میں ہے اور ضلعی رسد افسران مسلسل نگرانی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو بروقت گیس سلنڈر اور ایندھن فراہم ہو سکے۔ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف 33 ایف آئی آر درج کی گئیں جبکہ دیگر معاملات میں 189 ایف آئی آر، 17 گرفتاریاں اور 224 افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔حکومت نے واضح کیا کہ ریاست میں پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی مکمل طور پر معمول کے مطابق ہے۔ اس وقت تقریباً 91 ہزار کلو لیٹر پیٹرول اور 1.15 لاکھ کلو لیٹر ڈیزل ذخیرہ میں موجود ہے، جبکہ 12,888 پیٹرول پمپ فعال ہیں۔ 27 سے 29 مارچ کے درمیان ہزاروں کلو لیٹر ایندھن کی فروخت ریکارڈ کی گئی جس سے سپلائی چین مضبوط رہی۔ریاست میں 4,107 گیس ڈسٹری بیوٹرز کے ذریعے صارفین کو ان کی بکنگ کے مطابق گیس سلنڈر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے یقین دلایا کہ وافر مقدار میں اسٹاک موجود ہے اور سپلائی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔چیف سکریٹری کی صدارت میں ہونے والی میٹنگ میں شہروں میں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کنکشن بڑھانے اور زیر التوا منظوریوں کو تیز کرنے کی ہدایت دی گئی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ گھبراہٹ میں ایندھن یا گیس کا ذخیرہ نہ کریں کیونکہ صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے محکمہ خوراک و رسد کے کمشنر دفتر میں 24 گھنٹے کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے جبکہ تمام اضلاع میں بھی کنٹرول روم فعال ہیں۔ مزید برآں، مرکز نے 23 مارچ سے کمرشل ایل پی جی سلنڈرز کے لیے 20 فیصد اضافی الاٹمنٹ کی اجازت دی ہے، جس سے سپلائی مزید مستحکم ہوئی ہے۔



