کی نظرثانی کے لیے ماہرین کا پینل تشکیل دیا جائے گا
نئی دہلی، 20 مارچ (یواین آئی) مرکزی حکومت نے جمعہ کو سپریم کورٹ کو مطلع کیا کہ نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ (این سی ای آرٹی ) کی آٹھویں جماعت کی ایک کتاب میں عدالتی بدعنوانی پر لکھے گئے متنازع باب کی نظرثانی کے لیے ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔کمیٹی کے مجوزہ اراکین میں سینئر ایڈووکیٹ اور سابق اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال، سپریم کورٹ کی سابق جج جسٹس اندو ملہوترا اور نیشنل جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر و سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس انیرودھ بوس شامل ہیں۔ سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیا باگچی اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ کو ایک دوسری درخواست کی سماعت کے دوران یہ معلومات فراہم کیں۔یہ تنازع پچھلے مہینے اس وقت شروع ہوا جب این سی ای آر ٹی کی آٹھویں جماعت کی سوشل سائنس کی مجوزہ کتاب میں عدالتی بدعنوانی پر ایک باب شامل کیا گیا تھا۔ اس پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کتاب پر پابندی لگانے کا حکم دیا، جس کے بعد این سی ای آر ٹی نے عوامی معافی مانگی اور وہ باب واپس لے لیا۔عدالت نے اس وقت تشویش کا اظہار کیا جب اسے معلوم ہوا کہ این سی ای آر ٹی آئندہ تعلیمی سیشن میں اس باب کا ترمیمی ورژن دوبارہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تب عدالت نے ہدایت دی کہ کسی بھی دوبارہ ترتیب دیے گئے مواد کی نظرثانی پہلے وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی ماہر کمیٹی کے ذریعے ہونی چاہیے۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کمیٹی میں ایک سابق سینئر جج، ایک ممتاز ماہر تعلیم اور ایک معروف قانونی ماہر شامل ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ، عدالت نے اصل باب لکھنے والے تین ماہرین تعلیم کو عوامی اداروں کے مستقبل کے تعلیمی منصوبوں میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔



