الیکشن کمیشن نے اسمبلی اور ضمنی انتخابات کو لے کر فرمان جاری کیا
نئی دہلی، 16 مارچ (یو این آئی) الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں اور ایک مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور چھ ریاستوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ کو سختی سے نافذ کرنے اور اس پر عمل کرانے کی ہدایت دی ہے۔غور طلب ہے کہ کمیشن نے ایک دن پہلے اتوار کے روز آسام، کیرالہ، پڈوچیری، تمل ناڈو اور مغربی بنگال کی قانون ساز اسمبلیوں کے لیے عام انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان ریاستوں میں ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ فوراً نافذ ہو گیا۔الیکشن کمیشن نے انتخابات میں جانے والی ریاستوں کے چیف سکریٹریوں اور چیف الیکٹورل افسران کو ضابطہ اخلاق کی سختی سے تعمیل کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ یہ ضابطہ اخلاق متعلقہ ریاستوں کے سلسلے میں مرکزی حکومت پر بھی نافذ ہوگا، خاص طور پر نئے اعلانات اور پالیسی فیصلوں کے سلسلے میں۔کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ سرکاری، عوامی اور نجی املاک پر لگائے گئے پوسٹر، بینر یا دیگر قسم کے انتخابی تشہیر سے ہونے والی خرابی کو فوراً ہٹا دیا جائے۔ کسی بھی سیاسی جماعت یا امیدوار کی جانب سے سرکاری گاڑیوں، سرکاری رہائش گاہوں یا دیگر سرکاری وسائل کے غلط استعمال پر مکمل پابندی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری خرچ پر اشتہارات جاری کرنے پر بھی پابندی ہوگی۔
کمیشن نے اس سلسلے میں شہریوں کی نجی زندگی کے احترام پر بھی زور دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسی بھی شخص کے نجی مکان کے باہر مظاہرہ یا دھرنا دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اسی طرح کسی بھی زمین، عمارت یا دیوار پر مالک کی اجازت کے بغیر جھنڈے، پوسٹر یا بینر نہیں لگائے جا سکیں گے۔ کمیشن نے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر نظر رکھنے کے لیے شکایت نگرانی کا نظام بھی قائم کیا ہے۔ اس کے تحت کوئی بھی شہری یا سیاسی جماعت ہیلپ لائن نمبر 1950 پر شکایت درج کرا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ cVIGIL ایپ اور ‘ای سی آئی نیٹ پورٹل کے ذریعے بھی شکایت درج کی جا سکتی ہے۔کمیشن نے بتایا کہ شکایات پر فوری کارروائی کو یقینی بنانے کے لیے ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 5173 سے زیادہ فلائنگ اسکواڈ (اڑن دستے) تعینات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 5200 سے زیادہ اسٹیٹک سرویلنس ٹیمیں بھی نگرانی کے لیے لگائی گئی ہیں، جن کا مقصد شکایت ملنے کے 100 منٹ کے اندر کارروائی کرنا ہے۔ کمیشن نے سیاسی جماعتوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جلسوں اور جلوسوں کے انعقاد سے پہلے پولیس انتظامیہ کو اطلاع دیں، تاکہ ٹریفک اور سکیورٹی کا انتظام یقینی بنایا جا سکے۔ ساتھ ہی لاؤڈ اسپیکر یا دیگر سہولتوں کے استعمال کے لیے ضروری اجازت لینا بھی لازمی ہوگا۔کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وزراء اپنے سرکاری کام کو انتخابی مہم کے ساتھ نہیں جوڑ سکتے اور انتخابی مہم کے لیے سرکاری مشینری، گاڑیوں یا ملازمین کا استعمال نہیں کر سکتے۔ تمام افسران کو غیر جانبداری کے ساتھ ضابطۂ اخلاق نافذ کرنے اور تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ یکساں برتاؤ کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی جماعتوں کو عوامی مقامات جیسے میدان یا ہیلی پیڈ کے استعمال کے لیے سہولت ماڈیول کے ذریعے درخواست دینی ہوگی۔ ان مقامات کی الاٹمنٹ ‘پہلے آؤ، پہلے پاؤ، کی بنیاد پر کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے کہا کہ ان تمام اقدامات کا مقصد انتخابی عمل کو منصفانہ، شفاف اور قابلِ اعتماد بنانا ہے۔



