ہومInternationalبغیر ضمانت اور ہرجانے کے جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں

بغیر ضمانت اور ہرجانے کے جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں

ایران نے دُنیا کے سامنےواضح کر دیا: تیل کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران سخت جواب دے گا

تہران کا دھماکہ خیز دعویٰ: امریکہ آبنائے ہرمزکو کھلوانے کے لیے بیجنگ کی منتیں کر رہا ہے

تہران، 15 مارچ (یواین آئی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ موجودہ جنگ کا خاتمہ تبھی ممکن ہے جب اس بات کی پختہ ضمانت دی جائے کہ حملے دوبارہ نہیں دہرائے جائیں گے۔عراقچی نے ایک معروف عربی اخبار ’العربی الجدید‘ سے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ جنگ کا اختتام اسی وقت ممکن ہے جب حملوں کے دوبارہ نہ ہونے کی ضمانت دی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے تنازع کے دوران ہوئے نقصان کے لیے ہرجانے یا معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا۔انہوں نے علاقائی ممالک کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی بنانے کی تجویز دی جو خطے میں ہوئے حملوں کی باریک بینی سے جانچ کر سکے۔ایرانی وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ تہران کی فوجی کارروائیاں صرف اس خطے میں موجود امریکی اڈوں اور مفادات تک محدود رہی ہیں۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ ایران نے کسی پڑوسی ملک کے شہری یا رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا ہے۔عراقچی نے خدشہ ظاہر کیا کہ عرب ممالک کے شہری ٹھکانوں پر ہوئے حملوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد ایران اور اس کے پڑوسی عرب ممالک کے خوشگوار تعلقات میں دراڑ ڈالنا ہے۔انہوں نے یہ بھی سنسنی خیز دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کے “شاہد” ڈرون کی طرز پر “لوکاس” نامی ایک نیا ڈرون بنایا ہے، جسے عرب ممالک میں ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے توانائی مراکز یا تیل کی سہولیات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران سخت جواب دے گا۔ ایسی صورت میں ایران خطے میں سرگرم امریکی کمپنیوں کے ٹھکانوں پر براہِ راست حملہ کرے گا۔
ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عالمی سیاست میں ایک نیا ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کی سپر پاور کہلانے والا ملک امریکہ، اب آبنائے ہرمزکو کھلوانے کے لیے بیجنگ کی منتیں کر رہا ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ کے مطابق، خطے میں امریکی اثر و رسوخ کی دیواریں اب تیزی سے گر رہی ہیں۔عباس عراقچی نے ایران کی پالیسی کو واضح کرتے ہوئے ایک نئی “ریڈ لائن” کھینچ دی ہے۔ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں کے لیے آبنائے ہرمز کے راستے بند رہیں گے۔ایران کے قریبی دوست ممالک اور غیر جانبدار ریاستوں کے لیے یہ عالمی تجارتی گزرگاہ کھلی ہے۔ وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی “سیکیورٹی چھتری” اب چھلنی ہو چکی ہے اور وہ تحفظ دینے کے بجائے مزید بحران پیدا کر رہی ہے۔ایرانی وزیرِ خارجہ نے خلیجی ممالک کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امریکی موجودگی کا واحد مقصد اسرائیل کے مفادات کا تحفظ ہے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا کہ”جمعے کے روز راس الخیمہ اور دبئی کے قریب سے جو حملے کیے گئے اور پڑوسی زمین سے جو راکٹ سسٹم داغے جا رہے ہیں، وہ خطے کے امن کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے کے ممالک مل کر امریکہ کو یہاں سے نکال باہر کریں۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں فوجی نقل و حرکت عروج پر ہے۔ عباس عراقچی کا یہ دعویٰ کہ امریکہ چین سے “بھیک” مانگ رہا ہے، واشنگٹن کے لیے ایک بڑی سفارتی سبکی قرار دی جا رہی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات