ہومInternationalبھارت کے دیہی علاقوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی خودمختاری، سماجی تبدیلی...

بھارت کے دیہی علاقوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی خودمختاری، سماجی تبدیلی کی علامت

جنیوا ؍ نئی دہلی۔ 15؍ مارچ۔ ایم این این۔ عالمی سطح پر ہونے والی ایک بحث میں ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت کے دیہی علاقوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی اور سماجی خودمختاری مقامی معاشرتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل کے 61ویں اجلاس کے موقع پر اس موضوع کو اجاگر کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت تعلیم، روزگار اور مقامی معیشت میں نئی سماجی حقیقت کو جنم دے رہی ہے۔ اجلاس کے دوران راشٹریہ سیوا کیندر سنگھ کی نمائندہ درخشان حسن بھٹ نے بتایا کہ خطے میں خواتین کی معاشی شرکت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح تقریباً 34.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو قومی اوسط سے زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سماجی رویوں میں بتدریج تبدیلی آ رہی ہے اور خواتین کو معاشی مواقع زیادہ دستیاب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں مختلف سرکاری پروگراموں کے ذریعے پانچ لاکھ سے زیادہ خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کیے گئے ہیں۔ ان پروگراموں کے ذریعے خواتین نہ صرف مالی خودمختاری حاصل کر رہی ہیں بلکہ اپنے خاندانوں کی معاشی استحکام میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ حکام کے مطابق خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف حکومتی اقدامات بھی متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان میں مشن شکتی جیسے پروگرام شامل ہیں جن کے تحت خواتین کو قانونی مدد، مہارتوں کی تربیت، مالی خواندگی اور کاروباری مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس پروگرام کے دو بڑے حصے سمبل اور سمرتھیا کے ذریعے خواتین کو سماجی تحفظ اور معاشی ترقی کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح خواتین کی سلامتی اور مدد کے لیے مختلف ادارہ جاتی نظام بھی قائم کیے گئے ہیں۔ ون اسٹاپ سینٹرز، خواتین ہیلپ لائنز، ایمرجنسی رسپانس سسٹمز اور پولیس میں خواتین کے لیے خصوصی ڈیسک جیسے اقدامات کے ذریعے ضرورت مند خواتین کو فوری مدد فراہم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ معاشی میدان میں بھی خواتین کی شرکت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات لاکھ سے زیادہ خواتین سیلف ہیلپ گروپس کے ذریعے مائیکرو کریڈٹ اور مارکیٹ تک رسائی حاصل کر رہی ہیں۔ یہ گروپس مقامی معیشت کو فروغ دینے اور چھوٹے کاروباروں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سماجی اشاریوں میں بھی بہتری دیکھی گئی ہے۔ حکام کے مطابق مختلف حکومتی اقدامات کے نتیجے میں لڑکیوں کے حق میں صنفی تناسب میں بھی بہتری آئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک خطے میں یہ تناسب 2011 میں 918 سے بڑھ کر 2019 میں 942 تک پہنچ گیا، جسے لڑکیوں کی تعلیم اور سماجی آگاہی مہمات کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت صرف معاشی تبدیلی نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ تعلیم، روزگار اور مقامی فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کی موجودگی دیہی معاشروں میں نئے سماجی توازن کو جنم دے رہی ہے۔مبصرین کے مطابق اگر یہ رجحان جاری رہا تو بھارت کے دیہی علاقوں میں خواتین کی بڑھتی ہوئی قیادت نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گی بلکہ سماجی ترقی اور برابری کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات