ہومJharkhandبی اے یو میں سہ روزہ ’ایگرو ٹیک زرعی میلہ ‘ کا...

بی اے یو میں سہ روزہ ’ایگرو ٹیک زرعی میلہ ‘ کا آغاز؛ جدید ٹیکنالوجی اور باجرے کی کاشت پر زور

وزیر زراعت شلپی نیہا ترکی کی کسانوں سے جدید زراعت اپنانے کی اپیل، تلنگانہ کے ’پام آئل‘ ماڈل کی دی مثال

جدید بھارت نیوز سروس
رانچی،14؍مارچ: دارالحکومت رانچی کی برسا ایگریکلچر یونیورسٹی (BAU) میں آج ہفتہ سے سہ روزہ ‘ایگرو ٹیک زرعی میلہ-2026’ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس کا افتتاح ریاست کی وزیر زراعت شلپی نیہا ترکی نے وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ کی موجودگی میں کیا۔اس ایگرو ٹیک میلے میں 120 سے زائد اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ یہاں زرعی آلات، باغبانی اور باجرے (ملٹس) کی جدید طریقوں سے کاشتکاری کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں کاشتکاری کے حوالے سے کسانوں کے لیے کئی تکنیکی سیشنز بھی منعقد کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ پہلے سے طے شدہ پروگرام کے باوجود ریاست کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایگرو ٹیک میلے میں شرکت نہ کر سکے۔اس میلے میں باغبانی، مویشی پروری اور دیگر زرعی شعبوں میں بہترین کام کرنے والے کسانوں کو اعزاز سے بھی نوازا جائے گا۔ بطور مہمان خصوصی وزیر زراعت شلپی نیہا ترکی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ کسانوں کو اپنی کاشتکاری میں تبدیلیاں لانی ہوں گی اور ٹیکنالوجی پر مبنی زراعت پر توجہ دینی ہوگی۔ وزیر موصوفہ نے تلنگانہ میں “پام آئل” کی کاشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے وہاں کے کسان دھان کی کھیتی کرتے تھے لیکن گزشتہ چار سالوں میں وہاں کے کسانوں نے پام آئل کے شعبے میں اچھا کام کیا ہے۔وزیر زراعت نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ریاست کی حکومت “بی اے یو” میں فیکلٹی کی کمی کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔ جے پی ایس سی (JPSC) کے ذریعے آسامیاں بھی نکالی گئی تھیں لیکن سینئرسائنسدان دستیاب نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال کنٹریکٹ پر اساتذہ کا انتظام کر کے تدریسی کام کو بہتر طریقے سے چلایا جا رہا ہے۔
ایک سال میں فیکلٹی کی کمی دور نہ ہوئی تو کئی شعبوں کا الحاق خطرے میں : وائس چانسلر
اس پروگرام میں بی اے یو کے وائس چانسلر ڈاکٹر ایس سی دوبے نے ریاست کی واحد زرعی یونیورسٹی کے تقریباً تمام شعبوں میں فیکلٹی کی شدید کمی کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس سے نہ صرف تعلیم کا معیار متاثر ہو رہا ہے بلکہ ویٹرنری سمیت کئی شعبوں کے کورسز کا الحاق (Recognisation) بھی خطرے میں ہے۔
جھارکھنڈ میں زراعت، مویشی پروری اور ماہی گیری کے وسیع امکانات – سنجے سیٹھ
پروگرام میں بطور مہمانِ اعزازی شریک وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے کہا کہ جھارکھنڈ میں کاشتکاری کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ جھارکھنڈ ‘شری انّ‘ (باجرہ) اور خاص طور پر “مڑوا” کی کاشت میں اول مقام حاصل کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کریں گے کہ یہاں کے مڑوا کے بسکٹ کو وزارت دفاع کے ذریعے فوج کی کینٹینوں تک پہنچایا جائے، تاکہ بھارت کے بہادر جوانوں کو یہ دستیاب ہو سکے اور ان کی صحت مزید بہتر ہو۔وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے کہا کہ جھارکھنڈ کے باجرے کو وزارت دفاع تک پہنچانے میں BAU اپنا اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ وزیر اعظم نے کسانوں کی بہتر زندگی کے لیے ‘کرشک سمان یوجنا‘کے تحت 9 کروڑ 32 لاکھ کسانوں کے کھاتوں میں رقم منتقل کی ہے۔ BAU اس پر تحقیق کرے کہ سرحدوں پر منفی درجہ حرارت میں ملک کی حفاظت کرنے والے فوج کے بہادر جوانوں کے لیے باجرے کے استعمال سے کس طرح غذائیت سے بھرپور خوراک اور بسکٹ بنائے جا سکتے ہیں۔
’پائیدار زراعت کے لیے موسمیاتی سازگار ٹیکنالوجی کی اختراع‘
اس سال ایگرو ٹیک میلہ 2026 کا تھیم “پائیدار زراعت کے لیے موسمیاتی سازگار ٹیکنالوجی” رکھا گیا ہے۔ بی اے یو میں اس بار ایگرو ٹیک کسان میلے میں 120 اسٹالز لگائے گئے ہیں۔ جن میں بی اے یو کے مختلف شعبوں، فیکلٹیوں، کالجوں، یونٹس، علاقائی تحقیقی اور زرعی سائنس مراکز کے علاوہ جھارکھنڈ میں کام کرنے والے انڈین کونسل آف ایگریکلچرل ریسرچ (ICAR) کے تحقیقی اداروں، زراعت سے متعلق محکموں، بیج، زرعی مشینری اور کھادوں کے مینوفیکچررز اور فروخت کنندگان، بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ ساتھ این جی اوز نے اپنی ٹیکنالوجی، خدمات اور مصنوعات کی نمائش کی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات