کلکتہ ہائی کورٹ میں مفادِ عامہ کی عرضی دائر
جدید بھارت نیوز سروس
کولکاتہ: مغربی بنگال میں آئندہ اسمبلی انتخابات کو آزادانہ، منصفانہ اور تشدد سے پاک بنانے کے مطالبے کے ساتھ کلکتہ ہائی کورٹ میں ایک مفادِ عامہ کی عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی ہے۔ بدھ کے روز چیف جسٹس سوجوئے پال اور جسٹس پارتھا سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس عرضی کو سماعت کے لیے قبول کر لیا۔یہ عرضی ایسے وقت میں داخل کی گئی ہے جب منگل کو کولکاتہ میں چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا تھا کہ الیکشن کمیشن اس بار انتخابی تشدد کے معاملے میں زیرو ٹالرینس پالیسی اپنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے پہلے، دوران اور بعد میں اگر کوئی تشدد میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ پچھلے کئی انتخابات کے دوران ریاست میں تشدد کے واقعات سامنے آئے تھے، جن میں ووٹروں کو ڈرانا دھمکانا، اپوزیشن جماعتوں کے پولنگ ایجنٹوں کو ہراساں کرنا اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی جیسے واقعات شامل تھے۔ اسی وجہ سے اس بار انتخابات کو مکمل طور پر پُرامن بنانے کے لیے عدالت سے مداخلت کی درخواست کی گئی ہے۔مفادِ عامہ کی عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ریاست کے حساس اور کمزور علاقوں میں سنٹرل آرمڈ پولیس فورسز کو پہلے سے تعینات کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جائیں اور ووٹنگ کے دوران بڑے پیمانے پر ویڈیو ریکارڈنگ کا انتظام کیا جائے، تاکہ کسی بھی طرح کی بد نظمی یا تشدد کو روکا جا سکے۔درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ 2018 اور 2023 کے تین سطحی پنچایت انتخابات کے دوران بھی کئی جگہوں پر تشدد ہوا تھا، جس میں متعدد افراد کی جانیں گئی تھیں۔ اسی طرح 2021 کے اسمبلی انتخابات کے بعد بھی ریاست کے مختلف علاقوں میں تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ادھر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بھی اس بار خاص طور پر مغربی بنگال میں انتخابات سے پہلے اور بعد کے تشدد پر نظر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالیہ دنوں میں بی جے پی کی پریورتن یاترا کے دوران بھی ریاست کے کئی مقامات پر حملوں کی خبریں سامنے آئی تھیں، جس کے لیے بی جے پی نے ترنمول کانگریس کے کارکنوں کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ان تمام واقعات کے پیش نظر اب عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مناسب ہدایات جاری کرے تاکہ آنے والے اسمبلی انتخابات مکمل طور پر آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن ماحول میں منعقد ہو سکیں۔



